Top Best Rahat Indori Poetry, Shayari & Ghazals poetry In Urdu Text

Relationship Guides For4
0









Best heart touching  Rahat Indori Poetry, shayari & Ghazals Poetry allows readers to express their inner feelings with the help of beautiful poetry. Rahat Indori Poetry, shayari & Ghazals shayari and ghazals is popular among people who love to read good poems. You can read 2 and 4 lines Poetry and download Rahat Indori Poetry, shayari & Ghazals poetry images can easily share it with your loved ones including your friends and family members. Up till, several books have been written on Rahat Indori Poetry, shayari & Ghazals Shayari. Urdu Ghazal readers have their own choice or preference and here you can read Rahat Indori Poetry, shayari & Ghazals poetry . always u read this rahat indori poerty your feeling is good and nice .






اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے



اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے


لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے


میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے


ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے


جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥



نصیحتیں نہ کرو عشق کرنے والوں کو


نصیحتیں نہ کرو عشق کرنے والوں کو

یہ آگ اور بھڑک جائے گی بجھانے سے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥



سلیقہ جن کو سکھایا تھا ہم نے چلنے کا


سلیقہ جن کو سکھایا تھا ہم نے چلنے کا

وہ لوگ آج ہمیں دائیں بائیں کرنے لگے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے


اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے

چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے


ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر

یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے


لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج

پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے


زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو

بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے


جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے

وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے


عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی

سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


سب کو رسوا باری باری کیا کرو


سب کو رسوا باری باری کیا کرو

ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو


راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا

اپنے گھر کی پہرے داری کیا کرو


قطرہ قطرہ شبنم گن کر کیا ہوگا

دریاؤں کی دعوے داری کیا کرو


روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے

فرصت ہو تو یہ بے گاری کیا کرو


شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو

دن بھر فکر شب بے داری کیا کرو


چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو

جگنو بھیا جی مت بھاری کیا کرو


جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں

لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کرو


رات بدن دریا میں روز اترتی ہے

اس کشتی میں خوب سواری کیا کرو


روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی

مرنے کی بھی کچھ تیاری کیا کرو


خواب لپیٹے سوتے رہنا ٹھیک نہیں

فرصت ہو تو شب بے داری کیا کرو


کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیں

شعر کبھی خود پر بھی طاری کیا کرو


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


اونچے اونچے درباروں سے کیا لینا


اونچے اونچے درباروں سے کیا لینا

نگے بھوکے بیچاروں سے کیا لینا


اپنا مالک اپنا خالق افضل ہے

آتی جاتی سرکاروں سے کیا لینا


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


اُٹھا شمشیر دِکھا اپنا ہنر کیا لے گا


اُٹھا شمشیر دِکھا اپنا ہنر کیا لے گا؟؟

یہ رہی جان، یہ ہے گردن، یہ سر کیا لے گا


صرف اک شعر اڑا دے گا پرخچے تیرے

تو سمجھتا ہے کہ شاعر ہے یہ کر کیا لے گا


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا


نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا


میں جانتا تھا کہ زہریلا سانپ بن بن کر

ترا خلوص مری آستیں سے نکلے گا


اسی گلی میں وہ بھوکا فقیر رہتا تھا

تلاش کیجے خزانہ یہیں سے نکلے گا


بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دن

جہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے گا


گزشتہ سال کے زخمو ہرے بھرے رہنا

جلوس اب کے برس بھی یہیں سے نکلے گا


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے


سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے

ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے


ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی

یہ بوجھ وہ ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے


مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا

مگر یہ کون ہے جس نے ثمر اٹھایا ہے


یہی زمیں میں دبائے گا ایک دن ہم کو

یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے


بلندیوں کو پتہ چل گیا کہ پھر میں نے

ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے


مہا بلی سے بغاوت بہت ضروری ہے

قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے


بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے

ایک سچ کے لئے کس کس سے برائی لیتے


آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھی

لوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے


برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہے

ہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے


کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہا

عشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی لیتے


چاند راتوں میں ہمیں ڈستا ہے دن میں سورج

شرم آتی ہے اندھیروں سے کمائی لیتے


تم نے جو توڑ دیے خواب ہم ان کے بدلے

کوئی قیمت کبھی لیتے تو خدائی لیتے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا


نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا

تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا


تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں

وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا


خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری

کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا


وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا

تو ہم پہ موت کا احسان بھی نہیں ہوتا


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیں


یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیں

جیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں


روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم

پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں


ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں

دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے کمال آتے ہیں


چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے

روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں


بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے

بس اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا


ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا

عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا


جب وہ آئے تو میں خوش بھی ہوا شرمندہ بھی

میری تقدیر تھی ایسی مرا گھر ایسا تھا


حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا

دل شکستہ تھا مگر تیز نظر ایسا تھا


آگ اوڑھے تھا مگر بانٹ رہا تھا سایہ

دھوپ کے شہر میں اک تنہا شجر ایسا تھا


لوگ خود اپنے چراغوں کو بجھا کر سوئے

شہر میں تیز ہواؤں کا اثر ایسا تھا


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیں


جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیں

نہ جانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیں


تلا ہے دھوپ برسانے پہ سورج

شجر بھی چھتریاں لے کر کھڑے ہیں


انہیں ناموں سے میں پہچانتا ہوں

مرے دشمن مرے اندر کھڑے ہیں


کسی دن چاند نکلا تھا یہاں سے

اجالے آج تک چھت پر کھڑے ہیں


اجالا سا ہے کچھ کمرے کے اندر

زمین و آسماں باہر کھڑے ہیں


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑے


یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑے

اشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑے


سکوت زیست کو آمادۂ بغاوت کر

لہو اچھال کہ کچھ زندگی میں جان پڑے


ہمارے شہر کی بینائیوں پہ روتے ہیں

تمام شہر کے منظر لہو لہان پڑے


اٹھے ہیں ہاتھ مرے حرمت زمیں کے لیے

مزا جب آئے کہ اب پاؤں آسمان پڑے


کسی مکین کی آمد کے انتظار میں ہیں

مرے محلے میں خالی کئی مکان پڑے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


گلاب، خواب، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے


گلاب، خواب، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے

میں آ گیا ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے


فقیر، شاه، قلندر، امام، کیا کیا ہے

تجھے پتہ نہیں تیرا غلام کیا کیا ہے


امیر شہر کے کچھ کاروبار یاد آئے

میں رات سوچ رہا تھا حرام کیا کیا ہے


میں تم کو دیکھ کر ہر بات بھول جاتا ہوں

تمہی بتاؤ مجھے تم سے کام کیا کیا ہے


زمیں پہ سات سمندر سروں پہ سات آکاش

میں کچھ نہیں ہوں مگر اہتمام کیا کیا ہے


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو


میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

آسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دو


اب کہاں ڈھونڈھنے جاؤ گے ہمارے قاتل

آپ تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو


میں نے جس تاک پہ کچھ ٹوٹے دیے رکھے ہیں

چاند تاروں کو بھی لے جا کے وہیں پر رکھ دو


♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥


THANKS FULL U READ THIS POETRY 
MORE POETRY CLICK LINK BELOW

POETRY

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)