Best Emotional Jaun Elia Poetry In Urdu 2 Lines - The Poetry Addiction

Relationship Guides For4
0

Best Jaun Elia Poetry In Urdu 2 Lines Text

In this article you can read the best and emotional Jaun Elia poetry in Urdu 2 lines text. Read and share them with your friends and your loved one. 

Also read the best trending post...Best Wassi Shah Sad Poetry In Urdu 2 Lines Text


Jaun Elia Poetry In Urdu


 تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے


تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں


میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں

میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں


ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر

ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن


مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا

زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Jaun elia poetry in urdu 2 lines

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں


آہ کی جائے، واہ کی جائے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے


کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے


شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں

میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے


وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا

آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے


اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا

یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے


یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے


میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے

یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اند تارے بلاوجہ خوش ہیں


میں تو کسی اور سے مُخاطب ہوں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Top Emotional Jaun Elia Poetry 2 lines

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی


خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی

میں بھی برباد ہو گیا تو بھی


حسن مغموم تمکنت میں تری

فرق آیا نہ یک سر مو بھی


یہ نہ سوچا تھا زیر سایۂ زلف

کہ بچھڑ جائے گی یہ خوش بو بھی


حسن کہتا تھا چھیڑنے والے

چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی


ہائے وہ اس کا موج خیز بدن

میں تو پیاسا رہا لب جو بھی


یاد آتے ہیں معجزے اپنے

اور اس کے بدن کا جادو بھی


یاسمیں اس کی خاص محرم راز

یاد آیا کرے گی اب تو بھی


یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز

اے صبا اب نہ آئیو تو بھی


ہیں یہی جونؔ ایلیا جو کبھی

سخت مغرور بھی تھے بد خو بھی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا


جون یاروں کے یار تھے ہم تو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Jaun Elia poetry urdu 

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں


اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں


تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ

آپ تو قتل عام کر رہے ہیں


داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں

ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں


ہم ہیں مصروف انتظام مگر

جانے کیا انتظام کر رہے ہیں


ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم

ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں


ایک قتالہ چاہیے ہم کو

ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں


کیا بھلا ساغر سفال کہ ہم

ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں


ہم تو آئے تھے عرض مطلب کو

اور وہ احترام کر رہے ہیں


نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ

کوئے دل میں خرام کر رہے ہیں


اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے

بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں


ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں

بے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میری ہر بات بے اثر ہی رہی


نقص ہے میرے ہر بیاں میں کیا ؟


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Deep Jaun Elia poetry in Urdu

یارو، کچھ تو حال سناو


یارو،کچھ تو حال سناو

اُسکی قیامت بانہوں کا


وہ جو سمٹتے ہونگے اُن میں

وہ تو مر جاتے ہونگے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


دل تمنا سے ڈر گیا جانم

سارا نشہ اُتر گیا جانم


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

deep jaun elia poetry in urdu

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو


تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں

بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں

کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو


کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی

میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو


تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


عمر ترتیب سے نہیں گزری

ٹھیک ملنے کے وقت بچھڑے ہم


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Best Jaun Elia poetry 2 Lines

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو


تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں

بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں

کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو


کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی

میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو


تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کرکے ایک دوسرے سے عہد وفا

آؤ۔۔۔۔۔ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

emotional jaun elia poetry

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو


عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو

اک اور زخم کھا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں

میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو


تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ

شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو


تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ

اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو


تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو

کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو


برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں

شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


جا نے کیا واقعہ ہے ہونے کو

جی بہت چاہتا ہے رونے کو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید


عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید

تھا بس اک نارسائی کا رشتہ


میرے اور اُس کے درمیاں نکلا

عمر بھر کی جدائی کا رشتہ


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا


افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا

شاید وہ میرا خواب تھا شاید خیال تھا


یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ

بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا


دشتِ گُماں میں ناقہ ء لیلی تھا گرم خیز

شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا


خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر

دیکھا تو اک مُرقعِ بے خدوخال تھا


کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں

جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا


ہم ایک بے گزشتِ زمانہ زمانے میں

تھے حال مستِ حال جو ہر دم بحال تھا


پُرحال تھا وہ شب میرے آغوش میں مگر

اُس حال میں بھی اُس کا تقرب محال تھا


تھا مست اُس کے ناف پیالے کا میرا دل

اُس لب کی آرزو میں میرا رنگ لال تھا


اُس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں

جس کے عروج ہی میں ہمارا زوال تھا


اب کیا حسابِ رفتہ و آئیندہ ء گُماں

اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا


کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سُخن تھی جون

جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کتنا رویا تھا میں تیری خاطر

اب جو سوچوں تو ہنسی آتی ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


ہم نے اے سر زمیں خواب و خیال


ہم نے اے سر زمیں خواب و خیال

تجھ سے رکھا ہے شوق کو پر حال


ہم نے تیری امید گاہوں میں

کی ہے اپنے مثالیوں کی تلاش

دل کے رنگِ خیال بندی کو

تو بھی اک بار دیکھ لے اے کاش


ختنِ جاں! ترے غزالوں کو

ہم نے جانِ غزل بنایا ہے

ہم نے دکھ سہہ کے تیرے لمحوں کو

جاودانِ غزل بنایا ہے


ذکر سے ہم ترے حسینوں کے

شوخ گفتارو خوش کلام ہوئے

تیری گلیوں میں ہو کے ہم بدنام

کتنے شہروں میں نیک نام ہوئے


حسن فردا کے خواب دیکھے ہیں

شوق نے تیری خواب گاہوں میں

ہم نے اپنا سراغ پایا ہے

تیری گلیوں میں تیری راہوں میں


تیری راتیں ہمارے خوابوں سے

اور بھی کچھ سہانیاں ہوں گی

ہم جو باتیں جنوں میں بکتے ہیں

دیکھنا جاودانیاں ہوں گی


ہم ہیں وہ ماجرا طلب جن کی

داستانیں زبانیاں ہوں گی

تیری محفل میں ہم نہیں ہوں گے

پر ہماری کہانیاں ہوں گی


جو تھے دشمن تری امنگوں کے

کب انہیں بے گرفت چھوڑا ہے

ہم نے اپنے درشت لہجے سے

آمروں کا غرور توڑا ہے


ہم تو خاطر میں بھی نہیں لاتے

اہلِ دولت کو شہر یاروں کو

ہم نوا گر ترے عوام کے ہیں

دوست رکھتے ہیں تیرے پیاروں کو


تو ہے کاوش کا جن کی گلدستہ

ان کا نام ان کی نامداری ہو

تیرے شہروں میں اور دیاروں میں

حکم محنت کشوں کا جاری ہو


یہ بڑی سازگار مہلت ہے

یہ زمانہ بہت غنیمت ہے


شوق سے ولولے طلب کر لیں

جو نہ اب تک کیا وہ کر لیں


خوش بدن! پیرہن ہو سرخ ترا

دلبرا! بانکپن ہو سرخ ترا

ہم بھی رنگیں ہوں پر توِ گل سے

جوشِ گل سے چمن ہو سرخ ترا


تیرے صحرا بھی پر بہار رہیں

غنچہ خیز و شگوفہ کار رہیں

دل بہ دل ربطِ جاں رہے تجھ سے

صف بہ صف تیرے جاں نثار رہیں


ہر فسانہ بہم کہا جائے

میں جو بولوں تو ہم کہا جائے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


مجھ سے ملنے کو آپ آئیں ہیںِ

بیٹھیے میں بلا کے لاتا ہوں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے


گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے


ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں

ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے


ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا

سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے


ہیں میرے ذات سے منسوب صد فسانہء عشق

اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے


خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں

خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے


مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار

تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے


خراش نغمہ سے سینہ چھِلا ہوا ہے مرا

فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے


دوا سے فائد مقصود تھا ہی کب کہ فقط

دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے


زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب

سو جوفِ سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے


سرورِ مئے پہ بھی غالب رہا شعور مرا

کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے


غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے

تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے


علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں

وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے


رہا میں شاہدِ تنہا، نشینِ مسندِ غم

اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


داستان ختم ہونے والی ہے

تم میری آخری محبت ہوں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)