Best Romantic Parveen Shakir Poetry 2 Lines.
Trending posts this Month.
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
Parveen Shakir Poetry
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
2 lines Parveen Shakir poetry In Urdu
کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے
کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے
کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے
یونہی عمر ساری گزار دی
یونہی زندگی کے ستم سہے
کبھی نیند میں کبھی ہوش میں
تُو جہاں ملا تجھے دیکھ کر
نہ نظر ملی نہ زباں ہلی
یونہی سر جھکا کے گزر گئے
کبھی زلف پر کبھی چشم پر
کبھی تیرے حسیں وجود پر
جو پسند تھے میری کتاب میں
وہ شعر سارے بکھر گئے
مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے
مگر آج ہم ہیں جدا جدا
وہ جدا ہوئے تو سنور گئے
ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے
کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی اُن کے در کبھی در بدر
غمِ عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہو گا کوئی
جی نہیں یہ مانتا وہ بیوفا پہلے سے تھا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں، آئے کوئی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Top Parveen Shakir Poetry Urdu Text
کمالِ ضبط کو میں خود بھی آزماؤن گی
کمالِ ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی
بدن کے قرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناوں گی
وہ ایک رشتہءِ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بَھول جاؤں گی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اک نام کیا لکھاترا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھرہوا سے میری دشمنی رہی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
parveen shakir poetry
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک
بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا
گرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ
سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنک
شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صدا
کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعا
کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کٌچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا خیال بھی
دِل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
romantic parveen shakir poetry
عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سےوہ شخص گزرتابھی نہیں
اب کس امید پہ دروازےسےجھانکے کوئی
کوئی آہٹ،کوئی آواز،کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئےکوئی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
وہ رُوح میں خُوشبو کی طرح ہو گیا تحلیل
جو دُور بہت چاند کے ہالوں کی طرح تھا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
heart touching parveen shakir poetry
کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی ان کے در کبھی دَر بدر
غمِ عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آخر وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
تازہ محبّتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
تازہ محبّتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
پھر موسمِ بہار مِرے گُلستاں میں ہے
اِک خواب ہے کہ بارِ دگر دیکھتے ہیں ہم
اِک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے
تابِش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سَوا
جگنو سی یہ زمِیں جو کفِ آسماں میں ہے
اِک شاخِ یاسمین تھی کل تک خِزاں اَثر
اور آج سارا باغ اُسی کی اماں میں ہے
خوشبو کو ترک کر کے نہ لائے چمن میں رنگ
اتنی تو سُوجھ بُوجھ مِرے باغباں میں ہے
لشکر کی آنکھ مالِ غنیمت پہ ہے لگی
سالارِ فوج اور کسی اِمتحاں میں ہے
ہر جاں نثار یاد دہانی میں منہمک
نیکی کا ہر حساب دِل دوستاں میں ہے
حیرت سے دیکھتا ہے سمندر مِری طرف
کشتی میں کوئی بات ہے، یا بادباں میں ہے
اُس کا بھی دھیا ن جشن کی شب اے سپاہِ دوست
باقی ابھی جو تِیر، عُدو کی کماںمیں ہے
بیٹھے رہیں گے، شام تلک تیرے شِیشہ گر
یہ جانتے ہُوئے، کہ خسارہ دُکاں میں ہے
مسند کے اِتنے پاس نہ جائیں کہ پھر کَھلے
وہ بے تعلّقی جو مِزاجِ شہاں میں ہے
ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہَمَیں بھی ہے
ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اِس دِل میں شوقِ دید زیادہ ہی ہو گیا
اُس آنکھ میں میرے لئے اَنکار جب سے ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کوئی رات میرے آشنا مجهے یوں بهی تو نصیب ہو
کوئی رات میرے آشنا مجهے یوں بهی تو نصیب ہو
نہ خیال ہو لباس کا, وہ اتنا میرے قریب ہو
بدن کی گرم آنچ سے میری آرزو کو آگ دے
میرا جوش بهی بہک اٹهے, میرا حال بهی عجیب ہو
تیرے چاشنی وجود کا میں سارا رس نچوڑ لوں
پهر تو ہی میرا مرض ہو پهر تو ہی میرا طبیب ہو۔۔
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
زندگی میں یہ ہنر بھی آزمانا چاہیے
جنگ کسی اپنے سے ہو تو ہار جانا چاہئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
پروین شاکر کی شاعری
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے
اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے
ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بیزار ہو جاؤ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی
خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے
زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی
سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے
دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی
بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی
کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی
پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی
وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد
اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی
اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن
اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی
خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں
آنکھ میں پڑ گیا کچھ کہہ کر یہ ٹالا ہوگا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بچپنے کا ساتھ ہے پھر ایک سے دونوں کے دکھ
رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں اور
کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارش سنگ ملامت میں بھی وہ ہم راہ ہے
میں بھی بھیگوں خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کسان
جسم اور اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
حُسن کے سمجھنے کو عُمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظل الٰہی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی دیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہل کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں اپنی دوستی کو شہر میں رسوا نہیں کرتی
محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچا نہیں کرتی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ
بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
تعلقات کے برزخ میں ہی رکھا مجھ کو
وہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ تھا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے
کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے
کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے
یونہی عمر ساری گزار دی
یونہی زندگی کے ستم سہے
کبھی نیند میں کبھی ہوش میں
تُو جہاں ملا تجھے دیکھ کر
نہ نظر ملی نہ زباں ہلی
یونہی سر جھکا کے گزر گئے
کبھی زلف پر کبھی چشم پر
کبھی تیرے حسیں وجود پر
جو پسند تھے میری کتاب میں
وہ شعر سارے بکھر گئے
مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے
مگر آج ہم ہیں جدا جدا
وہ جدا ہوئے تو سنور گئے
ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے
کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی اُن کے در کبھی در بدر
غمِ عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملن
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
ہارنے میں اک انا کی بات تھی
ہارنے میں اک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارا اور ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
سَب سے نظر بچا کے وہ مُجھ کو کُچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رُک گئی، گردش ماہ و سال بھی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
2 lines parveen shakir poetry
گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کی
گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کی
لیکن میرے حسین نے حجت تمام کی
زینب کی بے ردائی نے سر میرا ڈھک دیا
آغاز صبح نو ہوئی وہ شام شام کی
اک خواب خاص چشم محمد میں تھا چھپا
تعبیر نور عین محمدﷺ نے عام کی
بچوں کی پیاس مالک کوثر پہ شاق تھی
ساقی کو ورنہ مے کی ضرورت نہ جام کی
حر سا نصیب بادشہوں کو نہیں نصیب
آقا سے مل رہی تھی گواہی غلام کی
دریا پہ تشنہ لب ہیں پہ صحرا میں شاد کام
دنیا عجب ہے ان کے سفر اور قیام کی
دے کر رضا جو چہرۂ شبیر زرد ہے
تھی التجائے جنگ یہ کس لالہ فام کی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
parveen shakir poetry
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
محبت چیز ایسی ہے
کَبھی ہوتی ہے اَپنوں سے
کَبھی ہوتی ہے سَپنوں سے
کَبھی اَنجان راہوں سے
کَبھی گُمنام نَاموں سے
کَبھی ہَوتی ہے پھُولوں سے
کَبھی بچپن کے جھولوں سے
کَبھی بے اِختیاری میں
کَبھی پکے اُصولوں سے
مُحبت اِک صَداقت ہے
مُحبت اِک عِبادت ہے
دُکھوں میں رول دیتی ہے
دَرد اَنمول دیتی ہے
زہر بھی گھول دیتی ہے
مُحبت چیز ایسی ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے
پھر کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے
رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے
وصل کا خواب مکمل ہو جائے
چاند کا چوما ہوا سرخ گلاب
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے
میں اندھیروں کو اجالوں ایسے
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے
دوش پر بارشیں لے کے گھومیں
میں ہوا اور وہ بادل ہو جائے
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے
عمر بھر تھامے رہے خوش بو کو
پھول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے
چڑیا پتوں میں سمٹ کر سوئے
پیڑ یوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں
مٹا سکے گی اسے گرد ماہ و سال کہاں
کھنچی ہوئی ہے جو تصویر یار آنکھوں میں
بس ایک شب کی مسافت تھی اور اب تک ہے
مہ و نجوم کا سارا غبار آنکھوں میں
ہزار صاحب رخش صبا مزاج آئے
بسا ہوا ہے وہی شہ سوار آنکھوں میں
وہ ایک تھا پہ کیا اس کو جب تہہ تلوار
تو بٹ گیا وہی چہرہ ہزار آنکھوں میں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کی
کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کی
شاید اس راہ سے گزرے گی سواری اس کی
میرا چہرہ ہے فقط اس کی نظر سے روشن
اور باقی جو ہے مضمون نگاری اس کی
آنکھ اٹھا کر جو روادار نہ تھا دیکھنے کا
وہی دل کرتا ہے اب منت و زاری اس کی
رات کی آنکھ میں ہیں ہلکے گلابی ڈورے
نیند سے پلکیں ہوئی جاتی ہیں بھاری اس کی
اس کے دربار میں حاضر ہوا یہ دل اور پھر
دیکھنے والی تھی کچھ کارگزاری اس کی
آج تو اس پہ ٹھہرتی ہی نہ تھی آنکھ ذرا
اس کے جاتے ہی نظر میں نے اتاری اس کی
عرصۂ خواب میں رہنا ہے کہ لوٹ آنا ہے
فیصلہ کرنے کی اس بار ہے باری اس کی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
ایک اِک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
صید سے بھی ہیں مراسم ترے صیاد سے بھی
کیوں سرکتی ہوئی لگتی ہے زمیں یاں ہر دم
کبھی پوچھیں تو سبب شہر کی بنیاد سے بھی
برق تھی یا کہ شرار دل آشفتہ تھا
کوئی پوچھے تو مرے آشیاں برباد سے بھی
بڑھتی جاتی ہے کشش وعدہ گہ ہستی کی
اور کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد سے بھی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اِس سے عجب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی
سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی
مرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئی
رفو گران شہر بھی کمال لوگ تھے مگر
ستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی
بہت سے لوگ شام تک کواڑ کھول کر رہے
فقیر شہر کی مگر صدا ہی اور ہو گئی
اندھیرے میں تھے جب تلک زمانہ ساز گار تھا
چراغ کیا جلا دیا ہوا ہی اور ہو گئی
بہت سنبھل کے چلنے والی تھی پر اب کے بار تو
وہ گل کھلے کہ شوخیٔ صبا ہی اور ہو گئی
نہ جانے دشمنوں کی کون بات یاد آ گئی
لبوں تک آتے آتے بد دعا ہی اور ہو گئی
یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھل رہی تھیں یا کہ خود
شگن کی رات خوشبوئے حنا ہی اور ہو گئی
ذرا سی کرگسوں کو آب و دانہ کی جو شہہ ملی
عقاب سے خطاب کی ادا ہی اور ہو گئی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
گونگے لبوں پہ حرف تمنا کیا مجھے
گونگے لبوں پہ حرف تمنا کیا مجھے
کس کور چشم شب میں ستارا کیا مجھے
زخم ہنر کو سمجھے ہوئے ہے گل ہنر
کس شہر نا سپاس میں پیدا کیا مجھے
جب حرف ناشناس یہاں لفظ فہم ہیں
کیوں ذوق شعر دے کے تماشا کیا مجھے
خوشبو ہے چاندنی ہے لب جو ہے اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے
دی تشنگی خدا نے تو چشمے بھی دے دیے
سینے میں دشت آنکھوں میں دریا کیا مجھے
میں یوں سنبھل گئی کہ تری بے وفائی نے
بے اعتباریوں سے شناسا کیا مجھے
وہ اپنی ایک ذات میں کل کائنات تھا
دنیا کے ہر فریب سے ملوا دیا مجھے
اوروں کے ساتھ میرا تعارف بھی جب ہوا
ہاتھوں میں ہاتھ لے کے وہ سوچا کیا مجھے
بیتے دنوں کا عکس نہ آئندہ کا خیال
بس خالی خالی آنکھوں سے دیکھا کیا مجھے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دنیا کے ہر فریب سے ملوا دیا مجھے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Parveen Shakir Poetry In Urdu
پورا دکھ اور آدھا چاند
پورا دکھ اور آدھا چاند
ہجر کی شب اور ایسا چاند
دن میں وحشت بہل گئی
رات ہوئی اور نکلا چاند
کس مقتل سے گزرا ہوگا
اتنا سہما سہما چاند
یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند
میری کروٹ پر جاگ اٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند
میرے منہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند
اتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہوگا چاند
آنسو روکے نور نہائے
دل دریا تن صحرا چاند
اتنے روشن چہرے پر بھی
سورج کا ہے سایا چاند
جب پانی میں چہرہ دیکھا
تو نے کس کو سوچا چاند
برگد کی اک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند
بادل کے ریشم جھولے میں
بھور سمے تک سویا چاند
رات کے شانے پر سر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند
سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننھا چاند
ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
اس کی صورت ہجر کا چاند
صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق میں سچا چاند
رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے
پھر کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اعتراف
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی
ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے
میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میں
تیری تصویر پہ لب رکھ دیے آہستہ سے!
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
تری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں
ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیا
مگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں
مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشی
میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں
کنارہ ڈھونڈنے کی چاہ تک مجھ میں نہیں ہوگی
میں اپنے گھر میں اک ایسا سمندر دیکھ سکتی ہوں
وصال و ہجر اب یکساں ہیں وہ منزل ہے چاہت میں
میں آنکھیں بند کر کے تجھ کو اکثر دیکھ سکتی ہوں
ابھی تیرے سوا دنیا بھی ہے موجود اس دل میں
میں خود کو کس طرح تیرے برابر دیکھ سکتی ہوں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Parveen Shakir Romantic Poetry
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے
میں اس کے خیال سے گریزاں
وہ میری صدا جھٹک رہا ہے
تحریر اسی کی ہے مگر دل
خط پڑھتے ہوئے اٹک رہا ہے
ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے
صدیوں سے سفر میں ہے سمندر
ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے
اک چاند صلیب شاخ گل پر
بالی کی طرح لٹک رہا ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
ایک اِک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی
اس عمر کے بعد اس کو دیکھا
آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں
ہونٹوں پہ مگر وہی تبسم!
چہرے پہ لکھی ہوئی اداسی
لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ
آواز میں گونجتی جدائی
بانہیں تھیں مگر وصال ساماں!
سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں
تا دیر میں سوچتی رہی تھی
کس ابر گریز پا کی خاطر
میں کیسے شجر سے کٹ گئی تھی
کس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا
میں اس کے گلے لگی ہوئی تھی
وہ پونچھ رہا تھا مرے آنسو
لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی!
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اِس سے عجب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
شکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں
نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی
وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں
یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سلے بھی نہیں
خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے مگر اب کے
وہ برہمی ہے کہ ہم سے انہیں گلے بھی نہیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دنیا کے ہر فریب سے ملوا دیا مجھے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کتنی معصوم خواہش ہے اس دیوانی لڑکی کی
چاہتی ہے محبت بھی کرے اور خوش بھی رہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے
برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر
اک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی
رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے
خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں
میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے
بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غم
منزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے
پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے
یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے
نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہوگی
سورج بھی مگر آئے گا اس رہ گزر سے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا
بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
