Best 100+ Famous Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu 2 Lines Text

Relationship Guides For4
0

Best Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu 2 lines

Here you can read the best and famous collection of Amjad Islam Amjad Poetry in Urdu. Read and Share Them with your Friends And your Loved-one




 بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا


بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا

سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا


سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے

کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا


بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم

ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا


چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت

زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا


دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے

وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا


بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی

کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا


نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ کل

تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا


اس عدوئے جاں کو امجدؔ میں برا کیسے کہوں

جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اب کے سفر ہی اور تھا‘


اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے

دشتِ طلب میں جا بجا‘ سنگِ گرانِ خواب تھے


حشر کے دن کا غلغلہ‘ شہر کے بام و دَر میں تھا

نگلے ہوئے سوال تھے‘ اُگلے ہوئے جواب تھے


اب کے برس بہار کی‘ رُت بھی تھی اِنتظار کی

لہجوں میں سیلِ درد تھا‘ آنکھوں میں اضطراب تھے


خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے

پھولوں کے ہاتھ جل گئے‘ کیسے یہ آفتاب تھے


سیل کی رہگزر ہوئے‘ ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے

کیسی عجیب پیاس تھی‘ کیسے عجب سحاب تھے


عمر اسی تضاد میں‘ رزقِ غبار ہو گئی

جسم تھا اور عذاب تھے‘ آنکھیں تھیں اور خواب تھے


صبح ہوئی تو شہر کے‘ شور میں یوں بِکھر گئے

جیسے وہ آدمی نہ تھے‘ نقش و نگارِ آب تھے


آنکھوں میں خون بھر گئے‘ رستوں میں ہی بِکھر گئے

آنے سے قبل مر گئے‘ ایسے بھی انقلاب تھے


ساتھ وہ ایک رات کا‘ چشم زدن کی بات تھا

پھر نہ وہ التفات تھا‘ پھر نہ وہ اجتناب تھے


ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے

یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے


اَبر برس کے کھُل گئے‘ جی کے غبار دُھل گئے

آنکھ میںرُونما ہوئے‘ شہر جو زیرِ آب تھے


درد کی رہگزار میں‘ چلتے تو کِس خمار میں

چشم کہ بے نگاہ تھی‘ ہونٹ کہ بے خطاب تھے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Famous Amjad Islam Amjad Poetry

کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غمپیڑ 


پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم

دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم


تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا

سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم


رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!

شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم!


آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں

دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم


ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں

بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu 

یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن


یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن

کہاں پہ جا کے رُکیں گے یہ بھاگتے ہوئے دن


غروب ہوتے گئے رات کے اندھیروں میں

نویدِ امن کے سورج کو ڈھونڈتے ہوئے دن


نجانے کون خلا کے یہ استعارے ہیں

تمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ہوئے دن


نہ آپ چلتے ، نہ دیتے ہیں راستہ ہم کو

تھکی تھکی سی یہ شامیں یہ اونگھتے ہوئے دن


پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی رات

گزرگیا ہے یہی بات سوچتے دن


تمام عمر مرے ساتھ ساتھ چلتے رہے

تمہی کو ڈھونڈتے تم کو پکارتے ہوئے دن


ہر ایک رات جو تعمیر پھر سے ہوتی ہے

کٹے گا پھر وہی دیوار چاٹتے ہوئے دن


مرے قریب سے گزرے ہیں بار ہا امجد

کسی کے وصل کے وعدے کو دیکھتے ہوئے دن


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry

جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے


جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے

کچھ کہا جائے نہ سوچا جائے


دیدۂ کور ہے قریہ قریہ

آئنہ کس کو دکھایا جائے


دامن عہد وفا کیا تھا میں

دل ہی ہاتھوں سے جو نکلا جائے


درد مندوں سے تغافل کب تک

اس کو احساس دلایا جائے


کیا وہ اتنا ہی حسیں لگتا ہے

اس کو نزدیک سے دیکھا جائے


وہ کبھی سر ہے کبھی رنگ امجدؔ

اس کو کس نام سے ڈھونڈا جائے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Best Amjad islam Amjad poetry

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی


بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

بام و در پہ نقش تحریر ہوا رہ جائے گی


آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں

خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی


رو بہ رو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے

ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گرد پا رہ جائے گی


خواب کے نشے میں جھکتی جائے گی چشم قمر

رات کی آنکھوں میں پھیلی التجا رہ جائے گی


بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب

دیکھ لینا یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو


ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو

خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو


روشنی کا یہ مسافر ہے رہ جاں کا نہیں

اپنے سائے سے بھی ہونے لگی وحشت ہم کو


آنکھ اب کس سے تحیر کا تماشا مانگے

اپنے ہونے پہ بھی ہوتی نہیں حیرت ہم کو


اب کے امید کے شعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں

جانے کس موڑ پہ لے آئی محبت ہم کو


کون سی رت ہے زمانے میں ہمیں کیا معلوم

اپنے دامن میں لیے پھرتی ہے حسرت ہم کو


زخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شاید نہ بھرے

ہجر میں ایسی ملی اب کے مسافت ہم کو


داغ عصیاں تو کسی طور نہ چھپتے امجدؔ

ڈھانپ لیتی نہ اگر چادر رحمت ہم کو


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu 2 Lines

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں


کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں

اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں


یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت

ہم ہی آشوب بال و پر میں ہیں


زندگی کے تمام تر رستے

موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں


اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں

جس قدر خواہش سفر میں ہیں


سیپ اور جوہری کے سب رشتے

شعر اور شعر کے ہنر میں ہیں


سایۂ راحت شجر سے نکل

کچھ اڑانیں جو بال و پر میں ہیں


عکس بے نقش ہو گئے امجدؔ

لوگ پھر آئنوں کے ڈر میں ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں


نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں

زمیں کے ساتھ نہ مل جائیں یہ خلائیں کہیں


سفر کی رات ہے پچھلی کہانیاں نہ کہو

رتوں کے ساتھ پلٹتی ہیں کب ہوائیں کہیں


فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا

مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں


ہوا ہے تیز چراغ وفا کا ذکر تو کیا

طنابیں خیمۂ جاں کی نہ ٹوٹ جائیں کہیں


میں اوس بن کے گل حرف پر چمکتا ہوں

نکلنے والا ہے سورج مجھے چھپائیں کہیں


مرے وجود پہ اتری ہیں لفظ کی صورت

بھٹک رہی تھیں خلاؤں میں یہ صدائیں کہیں


ہوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح

شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں


رکا ہوا ہے ستاروں کا کارواں امجدؔ

چراغ اپنے لہو سے ہی اب جلائیں کہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے


دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

لفظ اظہار کی الجھن میں پڑا ہے کب سے


اے کڑی چپ کے در و بام سجانے والے

منتظر کوئی سر کوہ ندا ہے کب سے


چاند بھی میری طرح حسن شناسا نکلا

اس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے


بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے

کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے


شعبدہ بازی آئینۂ احساس نہ پوچھ

حیرت چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے


دیکھیے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے

شہر پر چھائی ہوئی سرخ گھٹا ہے کب سے


کور چشموں کے لیے آئینہ خانہ معلوم

ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے


کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجدؔ

ڈھونڈتی کس کو سر دشت ہوا ہے کب سے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


لہو میں تیرتے پھرتے ملال سے کچھ ہیں


لہو میں تیرتے پھرتے ملال سے کچھ ہیں

کبھی سنو تو دلوں میں سوال سے کچھ ہیں


میں خود بھی ڈوب رہا ہوں ہر اک ستارے میں

کہ یہ چراغ مرے حسب حال سے کچھ ہیں


غم فراق سے اک پل نظر نہیں ہٹتی

اس آئنے میں ترے خد و خال سے کچھ ہیں


اک اور موج کہ اے سیل اشتباہ ابھی

ہماری کشت یقیں میں خیال سے کچھ ہیں


ترے فراق کی صدیاں ترے وصال کے پل

شمار عمر میں یہ ماہ و سال سے کچھ ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry

زندگانی جاودانی بھی نہیں


زندگانی جاودانی بھی نہیں

لیکن اس کا کوئی ثانی بھی نہیں


ہے سوا نیزے پہ سورج کا علم

تیرے غم کی سائبانی بھی نہیں


منزلیں ہی منزلیں ہیں ہر طرف

راستے کی اک نشانی بھی نہیں


آئنے کی آنکھ میں اب کے برس

کوئی عکس مہربانی بھی نہیں


آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے

اور اس دریا میں پانی بھی نہیں


جز تحیر گرد باد زیست میں

کوئی منظر غیر فانی بھی نہیں


درد کو دل کش بنائیں کس طرح

داستان غم کہانی بھی نہیں


یوں لٹا ہے گلشن وہم و گماں

کوئی خار بد گمانی بھی نہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے


پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے

ہے جس کے دم سے گرمئ بازار کون ہے


وہ سامنے ہے پھر بھی دکھائی نہ دے سکے

میرے اور اس کے بیچ یہ دیوار کون ہے


باغ وفا میں ہو نہیں سکتا یہ فیصلہ

صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے


مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند

ہے دیکھنا کہ دھند کے اس پار کون ہے


کچھ بھی نہیں ہے پاس پہ رہتا ہے پھر بھی خوش

سب کچھ ہے جس کے پاس وہ بیزار کون ہے


یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف

کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے


امجدؔ الگ سی آپ نے کھولی ہے جو دکاں

جنس ہنر کا یاں یہ خریدار کون ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


دشت دل میں سراب تازہ ہیں


دشت دل میں سراب تازہ ہیں

بجھ چکی آنکھ خواب تازہ ہیں


داستان شکست دل ہے وہی

ایک دو چار باب تازہ ہیں


کوئی موسم ہو دل گلستاں میں

آرزو کے گلاب تازہ ہیں


دوستی کی زباں ہوئی متروک

نفرتوں کے نصاب تازہ ہیں


آگہی کے ہماری آنکھوں پر

جس قدر ہیں عذاب تازہ ہیں


زخم در زخم دل کے کھاتے میں

دوستوں کے حساب تازہ ہیں


سر پہ بوڑھی زمین کے امجدؔ

اب کے یہ آفتاب تازہ ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے


پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے

ہے جس کے دم سے گرمئ بازار کون ہے


وہ سامنے ہے پھر بھی دکھائی نہ دے سکے

میرے اور اس کے بیچ یہ دیوار کون ہے


باغ وفا میں ہو نہیں سکتا یہ فیصلہ

صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے


مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند

ہے دیکھنا کہ دھند کے اس پار کون ہے


کچھ بھی نہیں ہے پاس پہ رہتا ہے پھر بھی خوش

سب کچھ ہے جس کے پاس وہ بیزار کون ہے


یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف

کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے


امجدؔ الگ سی آپ نے کھولی ہے جو دکاں

جنس ہنر کا یاں یہ خریدار کون ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


دشت دل میں سراب تازہ ہیں


دشت دل میں سراب تازہ ہیں

بجھ چکی آنکھ خواب تازہ ہیں


داستان شکست دل ہے وہی

ایک دو چار باب تازہ ہیں


کوئی موسم ہو دل گلستاں میں

آرزو کے گلاب تازہ ہیں


دوستی کی زباں ہوئی متروک

نفرتوں کے نصاب تازہ ہیں


آگہی کے ہماری آنکھوں پر

جس قدر ہیں عذاب تازہ ہیں


زخم در زخم دل کے کھاتے میں

دوستوں کے حساب تازہ ہیں


سر پہ بوڑھی زمین کے امجدؔ

اب کے یہ آفتاب تازہ ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے


اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے

خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے


مثل حباب بحر غم حادثات میں

ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے


ہم اس سے اپنی بات کا مانگیں اگر جواب

لہروں کا پیچ و خم وہ کھڑا دیکھتا رہے


آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی

ہم سوچتے تھے اس سے کبھی سامنا رہے


گلشن میں تھے تو رونق رنگ چمن بنے

جنگل میں ہم امانت باد صبا رہے


سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے

روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے


امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے

اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے


تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے

جی چاہتا ہے منت طفلاں اٹھائیے


خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ

پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے


پھر آج پتھروں سے ملاقات کیجیے

پھر آج سطح آب پہ چہرے بنائیے


ہر انکشاف درد کے پردے میں آئے گا

گر ہو سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے


پھولوں کا راستہ نہیں یارو مرا سفر

پاؤں عزیز ہیں تو ابھی لوٹ جائیے


کب تک حنا کے نام پہ دیتے رہیں لہو

کب تک نگار درد کو دلہن بنائیے


امجدؔ متاع عمر ذرا دیکھ بھال کے

ایسا نہ ہو کہ بعد میں آنسو بہائیے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦

Amjad Islam Amjad Poetry In Urdu & Hindi

دشت بے آب کی طرح گزری


دشت بے آب کی طرح گزری

زندگی خواب کی طرح گزری


چشم پر آب سے تری خواہش

رقص مہتاب کی طرح گزری


ایک صورت کو ڈھونڈتے ہر شب

چشم بے خواب کی طرح گزری


ہجر کی انجمن سے ہر ساعت

اشک بے تاب کی طرح گزری


داستاں میری اس کہانی کے

ان پڑھے باب کی طرح گزری


دل کے دریا سے ہر خوشی امجدؔ

ایک گرداب کی طرح گزری


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے


پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے

حیرت کی بات یہ ہے کہ برہم بھی ہم ہی تھے


گرنے لگے جو سوکھ کے پتے تو یہ کھلا

گلشن تھے ہم جو آپ تو موسم بھی ہم ہی تھے


ہم ہی تھے تیرے وصل سے محروم عمر بھر

لیکن تیرے جمال کے محرم بھی ہم ہی تھے


منزل کی بے رخی کے گلہ مند تھے ہمیں

ہر راستے میں سنگ مجسم بھی ہم ہی تھے


اپنی ہی آستیں میں تھا خنجر چھپا ہوا

امجدؔ ہر ایک زخم کا مرہم بھی ہم ہی تھے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ہونے کی تب و تاب سے باہر نہ اپنے ہوئے


اپنے ہونے کی تب و تاب سے باہر نہ ہوئے

ہم ہیں وہ سیپ جو آزادۂ گوہر نہ ہوئے


حرف بے صوت کی مانند رہے دنیا میں

دشت امکاں میں کھلے نقش مصور نہ ہوئے


پھول کے رنگ سر شاخ خزاں بھی چمکے

قیدئ رسم چمن خاک کے جوہر نہ ہوئے


تھک کے گرتے بھی نہیں گھر کو پلٹتے بھی نہیں

نجم افلاک ہوئے آس کے طائر نہ ہوئے


اس کی گلیوں میں رہے گرد سفر کی صورت

سنگ منزل نہ بنے راہ کا پتھر نہ ہوئے


اپنی ناکام امیدوں کے خم و پیچ میں گم

ابر کم آب تھے ہم رزق سمندر نہ ہوئے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


سوچ کے گنبد میں ابھری ٹوٹتی یادوں کی گونج


سوچ کے گنبد میں ابھری ٹوٹتی یادوں کی گونج

میری آہٹ سن کے جاگی سیکڑوں قدموں کی گونج


آنکھ میں بکھرا ہوا ہے جاگتے خوابوں کا رنگ

کان میں سمٹی ہوئی ہے بھاگتے سایوں کی گونج


جانے کیا کیا دائرے بنتے ہیں میرے ذہن میں

کانپ اٹھتا ہوں میں سن کر ٹوٹتے شیشوں کی گونج


رنگ میں ڈوبا ہوا ہے قریۂ چشم خیال

بام و در سے پھوٹتی ہے خوش نما چہروں کی گونج


جاتے جاتے آج امجدؔ پاؤں پتھر ہو گئے

ہاتھ پر میرے گری جب نرگسی آنکھوں کی گونج


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


غبار دشت طلب میں ہیں رفتگاں کیا کیا


غبار دشت طلب میں ہیں رفتگاں کیا کیا

چمک رہے ہیں اندھیرے میں استخواں کیا کیا


دکھا کے ہم کو ہمارا ہی قاش قاش بدن

دلاسے دیتے ہیں دیکھو تو قاتلاں کیا کیا


گھٹی دلوں کی محبت تو شہر بڑھنے لگا

مٹے جو گھر تو ہویدا ہوئے مکاں کیا کیا


پلٹ کے دیکھا تو اپنے نشان پا بھی نہ تھے

ہمارے ساتھ سفر میں تھے ہمرہاں کیا کیا


ہلاک نالۂ شبنم ذرا نظر تو اٹھا

نمود کرتے ہیں عالم میں گل رخاں کیا کیا


کہیں ہے چاند سوالی کہیں گدا خورشید

تمہارے در پر کھڑے ہیں یہ سائلاں کیا کیا


بچھڑ کے تجھ سے نہ جی پائے مختصر یہ ہے

اس ایک بات سے نکلی ہے داستاں کیا کیا


ہے پر سکون سمندر مگر سنو تو سہی

لب خموش سے کہتے ہیں بادباں کیا کیا


کسی کا رخت مسافت تمام دھوپ ہی دھوپ

کسی کے سر پہ کشیدہ ہیں سائباں کیا کیا


نکل ہی جائے گی اک دن مدار سے یہ زمیں

اگرچہ پہرے پہ بیٹھے ہیں آسماں کیا کیا


فنا کی چال کے آگے کسی کی کچھ نہ چلی

بساط دہر سے اٹھے حساب داں کیا کیا


کسے خبر ہے کہ امجدؔ بہار آنے تک

خزاں نے چاٹ لیے ہوں گے گلستاں کیا کیا


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کبھی رقص شام بہار میں اسے دیکھتے


کبھی رقص شام بہار میں اسے دیکھتے

کبھی خواہشوں کے غبار میں اسے دیکھتے


مگر ایک نجم سحر نما کہیں جاگتا

ترے ہجر کی شب تار میں اسے دیکھتے


وہ تھا ایک عکس گریز پا سو نہیں رکا

کٹی عمر دشت و دیار میں اسے دیکھتے


وہ جو بزم میں رہا بے خبر کوئی اور تھا

شب وصل میرے کنار میں اسے دیکھتے


جو ازل کی لوح پہ نقش تھا وہی عکس تھا

کبھی آپ قریۂ دار میں اسے دیکھتے


وہ جو کائنات کا نور تھا نہیں دور تھا

مگر اپنے قرب و جوار میں اسے دیکھتے


یہی اب جو ہے یہاں نغمہ خواں یہی خوش بیاں

کسی شام کوئے نگار میں اسے دیکھتے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے


در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے

مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے


غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں

اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے


یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے

مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے


یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی

وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے


یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے

وہ جو اپنے آپ میں مست ہوں مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے


یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے

مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کھیل اس نے دکھا کے جادو کے


کھیل اس نے دکھا کے جادو کے

میری سوچوں کے قافلے لوٹے


یا تو دھڑکن ہی بند ہو جائے

یا یہ خاموشیٔ فضا ٹوٹے


تم جہاں بھی ہو میرے دل میں ہو

تم مرے پاس تھے تو ہر سو تھے


نغمۂ گل کی باس آتی ہے

تار کس نے ہلائے خوشبو کے


اس کو لائیں تو ایک بات بھی ہے

ورنہ سب دوست آشنا جھوٹے


نخل امید سبز ہے امجدؔ

لاکھ جھکڑ چلا کئے لو کے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کن‌ فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر 


کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں 


عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا 


وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے 


جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں 


سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے



♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن 


کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اس کے لہجے میں برف تھی لیکن 


چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے 


حیرت کی بات یہ ہے کہ برہم بھی ہم ہی تھے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھی 


سو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں 


دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


لہریں اٹھ اٹھ کے مگر اس کا بدن چومتی تھیں 


وہ جو پانی میں گیا خوب ہی دریا چمکا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔ 


آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے 


ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو 


بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے 


ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦



ہر بات جانتے ہوئے دل مانتا نہ تھا 


ہم جانے اعتبار کے کس مرحلے میں تھے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


تم سے بچھڑ کر پہروں سوچتا رہتا ہوں 


اب میں کیوں اور کس کی خاطر زندہ ہوں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے 


کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


زندگی درد بھی دوا بھی تھی 


ہم سفر بھی گریز پا بھی تھی


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ہر سمندر کا ایک ساحل ہے 


ہجر کی رات کا کنارا نہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے 


اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے 


جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ہجر کی انجمن سے ہر ساعت 


اشک بے تاب کی طرح گزری 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦



بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب 


دیکھ لینا یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں 


بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


سنا ہے کانوں کے کچے ہو تم بہت سو ہم 


تمہارے شہر میں سب سے بنا کے رکھتے ہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ایک نظر دیکھا تھا اس نے آگے یاد نہیں 


کھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے 


یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے 


لوگ اپنے گھروں کو چلنے لگے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


لرزش نگہ میں لہجے میں لکنت عجیب تھی 


اس اولیں وصال کی وحشت عجیب تھی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ترے فراق کی صدیاں ترے وصال کے پل 


شمار عمر میں یہ ماہ و سال سے کچھ ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی رات 


گزر گیا ہے یہی بات سوچتے ہوئے دن 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے 


بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی 


مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر 


ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


تمہی نے کون سی اچھائی کی ہے 


چلو مانا کہ میں اچھا نہیں تھا


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم 


ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کچھ ایسی بے یقینی تھی فضا میں 


جو اپنے تھے وہ بیگانے لگے ہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


بے وفا تو وہ خیر تھا امجدؔ 


لیکن اس میں کہیں وفا بھی تھی 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے 


رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند 


ہے دیکھنا کہ دھند کے اس پار کون ہے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


تم ہی نے پاؤں نہ رکھا وگرنہ وصل کی شب 


زمیں پہ ہم نے ستارے بچھا کے رکھے تھے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں 


دھوپ آنکھوں تک آ جائے تو خواب بکھرنے لگتے ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


بچھڑ کے تجھ سے نہ جی پائے مختصر یہ ہے 


اس ایک بات سے نکلی ہے داستاں کیا کیا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


قدم اٹھا ہے تو پاؤں تلے زمیں ہی نہیں 


سفر کا رنج ہمیں خواہش سفر سے ہوا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


یوں تو ہر رات چمکتے ہیں ستارے لیکن 


وصل کی رات بہت صبح کا تارا چمکا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں 


جس قدر خواہش سفر میں ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے 


لفظ اظہار کی الجھن میں پڑا ہے کب سے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


آنکھوں میں کیسے تن گئی دیوار بے حسی 


سینوں میں گھٹ کے رہ گئی آواز کس طرح 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


شہر سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے 


سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا 


مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے 


اور اس دریا میں پانی بھی نہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


شبنمی آنکھوں کے جگنو کانپتے ہونٹوں کے پھول 


ایک لمحہ تھا جو امجدؔ آج تک گزرا نہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


تیر آیا تھا جدھر یہ مرے شہر کے لوگ 


کتنے سادا ہیں کہ مرہم بھی وہیں دیکھتے ہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ 


یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


وہ سامنے ہے پھر بھی دکھائی نہ دے سکے 


میرے اور اس کے بیچ یہ دیوار کون ہے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد 


چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


سائے لرزتے رہتے ہیں شہروں کی گلیوں میں 


رہتے تھے انسان جہاں اب دہشت رہتی ہے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


درد کا رستہ ہے یا ہے ساعت روز حساب 


سیکڑوں لوگوں کو روکا ایک بھی ٹھہرا نہیں 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


نہ اس کا انت ہے کوئی نہ استعارہ ہے 


یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


زخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شاید نہ بھرے 


ہجر میں ایسی ملی اب کے مسافت ہم کو 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


کوئی چلے تو زمیں ساتھ ساتھ چلتی ہے 


یہ راز ہم پہ عیاں گرد رہ گزر سے ہوا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا 


حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


اس کی گلیوں میں رہے گرد سفر کی صورت 


سنگ منزل نہ بنے راہ کا پتھر نہ ہوئے


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


امجد اسلام امجد کی غزلیں



کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا



کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا 


وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا 


وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں 


دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا 


میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں 


صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا 


کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم 


تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا 


کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں 


کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا 


کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں 


وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا 


تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو 


وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا


بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا 


سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا 


سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے 


کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا 


بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم 


ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا 


چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت 


زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا 


دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے 


وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا 


بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی 


کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا 


نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ کل 


تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا 


اس عدوئے جاں کو امجدؔ میں برا کیسے کہوں 


جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن


چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن 


کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن 


رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب 


دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن 


پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں 


بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن 


خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے 


پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن 


گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے 


اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن 


میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں 


سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن 


♦─━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─♦


یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے


یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے 


جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے 


ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا 


ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے 


یہ آئنوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں 


کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے 


وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو ان کو 


دلوں کے چاک رفو سے سلا نہیں کرتے 


جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں 


سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے 


ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی 


مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے 


جو ہم پہ گزری ہے جاناں وہ تم پہ بھی گزرے 


جو دل بھی چاہے تو ایسی دعا نہیں کرتے 


ہر اک دعا کے مقدر میں کب حضوری ہے 


تمام غنچے تو امجدؔ کھلا نہیں کرتے 


─━━━━━━━━━━━━─

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)