Mir Taqi Mir 2 Line Sad Poetry & Ghazals In Urdu Text

Relationship Guides For4
0

Mir Taqi Mir poertry & ghazals . Mir Taqi Mir was an urdu poet of the 18th century mughal india and one of the pioneers who gave shape to the urdu language itself.  famous for Romantic Poetry .

                        لب ترے لعل ناب ہیں دونوں


لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

پر تمامی عتاب ہیں دونوں


رونا آنکھوں کا روئیے کب تک

پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں


ہے تکلف نقاب وے رخسار

کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں


تن کے معمورے میں یہی دل و چشم

گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں


کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے

جگر و دل کباب ہیں دونوں


سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں

جیسے مست شراب ہیں دونوں


پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیں

اب تو سرمست خواب ہیں دونوں


ایک سب آگ ایک سب پانی

دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں


بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے

اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں


آگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔ

اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mir Taqi Mir Poetry

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

دل کے جانے کا نہایت غم رہا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ


اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ

کیا پوچھتے ہو الحمدللہ


مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے

کتنا ہے مغرور اللہ اللہ


پیر مغاں سے بے اعتقادی

استغفر اللہ استغفر اللہ


کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا

ہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ


حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے

اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ


سب عقل کھوئے ہے راہ محبت

ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ


مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ

کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ


کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں

اچھا رجھایا اے مہرباں آہ


گزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماری

اس بے وفا سے نے رسم نے راہ


تھی خواہش دل رکھنا حمائل

گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ


اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب

ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ


ہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیے

آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ


جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی

کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ


ظاہر کہ باطن اول کہ آخر

اللہ اللہ اللہ اللہ


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


بارےدنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر چلو یاںکہ بہت یاد رہو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


بزم میں جو ترا ظہور نہیں


بزم میں جو ترا ظہور نہیں

شمع روشن کے منہ پہ نور نہیں


کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک

یاد رہتی ترے حضور نہیں


خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں

اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں


قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے

لازم اس کام میں مرور نہیں


فکر مت کر ہمارے جینے کا

تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں


پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش

ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں


عام ہے یار کی تجلی میرؔ

خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


جب کے پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا


کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا


بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر

جو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا


کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں

کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا


مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں

ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا


میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ

جب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا.


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے


شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے

اس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے


سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیا

فرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے


اٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد باد

آوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے


بس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شب

یاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے


بیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئی

اے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے


اک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیں

اے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے


سودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاج

اس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں

عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی


ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی


اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی


وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی


اسی تقریب اس گلی میں رہے

منتیں ہیں شکستہ پائی کی


دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

آہ نے آہ نارسائی کی


کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی


زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ

کس بھروسے پر آشنائی کی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے


غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے

یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے


ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کی

اک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے


نے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہ

جو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے


ہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہے

ایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے


یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگ

ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے


ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاں

دامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے


گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر

اک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے


مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں

نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے


اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارے

تو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے

جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


جس جگہ دور جام ہوتا ہے


جس جگہ دور جام ہوتا ہے

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے


ہم تو اک حرف کے نہیں ممنون

کیسا خط و پیام ہوتا ہے


تیغ ناکاموں پہ نہ ہر دم کھینچ

اک کرشمے میں کام ہوتا ہے


پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش

روز ان کا بھی شام ہوتا ہے


زخم بن غم بن اور غصہ بن

اپنا کھانا حرام ہوتا ہے


شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان

جس پہ شب احتلام ہوتا ہے


قتل کو میں کہا تو اٹھ بولا

آج کل صبح و شام ہوتا ہے


آخر آؤں گا نعش پر اب آہ

کہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے


میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر

جیسے کوئی غلام ہوتا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا


کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا


یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت

زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا


تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے

جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا


میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی

آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا


غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے

بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا


مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی

گو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا


عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری

بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا


دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر

بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا


کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے

قید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو


کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو

ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو


شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم

اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو


خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن

اس قدر تو سواد ہے ہم کو


آہ کس ڈھب سے روئیے کم کم

شوق حد سے زیاد ہے ہم کو


شیخ و پیر مغاں کی خدمت میں

دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو


سادگی دیکھ عشق میں اس کے

خواہش جان شاد ہے ہم کو


بد گمانی ہے جس سے تس سے آہ

قصد شور و فساد ہے ہم کو


دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں

اور سب سے عناد ہے ہم کو


نامرادانہ زیست کرتا تھا

میرؔ کا طور یاد ہے ہم کو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ


کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ

ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ


جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا

کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ


چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر

منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ


ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں

شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ


جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن

پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ


عاشقی و بے کسی و رفتگی

جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ


جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب

وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ


اس کے آتش ناک رخساروں بغیر

لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ


بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار

پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ


یارو مت اس کا فریب مہر کھاؤ

میرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


سخت کافر تھاجس نے پہلے

میر مذہب عشق اختیار کیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میر صاحب زمانہ نازک ہے

دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے



♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں نایکامیوں سے کام لیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


وہ سر جو آج اونچا ہے کیونکہ وہ تاج پہنتا ہے

کل، یہاں خود، نوحہ میں ڈوب جائے گا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


تیرا چہرہ فرشتوں کے حسن کو شرمندہ کر دیتا ہے

آپ کے مکرم چال کے مقابلے میں، تیتر لنگڑا ظاہر ہوتا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)