Eyes Poetry in urdu text read this sad eyes poetry . heart touching poetry for you . read and share our friends this beautiful eyes poetry
آنکھوں میں، ایک کائنات گہری اور وسیع ہے،
خوابوں کی سرگوشی، ستاروں کے برعکس۔
گہرائیوں میں جھانکنا، جہاں راز پوشیدہ ہیں،
کہانیوں کی نقاب کشائی، جہاں خاموش الفاظ بولتے ہیں۔
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں
میں حسن اتفاق سے دیوانہ ہو گیا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
دیکھتا رہتا ہوں میں تیری غزالی آنکھیں
دیکھتا رہتا ہوں میں تیری غزالی آنکھیں
دیکھ تو تو بھی ذرا میری سوالی آنکھیں
چشم آہو سے نہ نرگس سے ہے تشبیہ درست
ہیں مثال آپ ہی وہ اپنی نرالی آنکھیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
تم جس کو سمجھتے ہو کہ ہے حسن تمہارا
مجھ کو تو وہ اپنی ہی محبت نظر آئی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Eyes poetry in urdu text
اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
وہ آئنہ ہے تو پھر آئنہ دکھائے مجھے
عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے
میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی
بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے
بہت دنوں سے میں ان پتھروں میں پتھر ہوں
کوئی تو آئے ذرا دیر کو رلائے مجھے
میں چاہتا ہوں کہ تم ہی مجھے اجازت دو
تمہاری طرح سے کوئی گلے لگائے مجھے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Killer Eyes Poetry In Urdu Text
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم نوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فرازؔ کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
حسن جادو ہے ترا ،پیار کی خوشبو جادو
تیرے چہرے کی ہنسی،آنکھ کا آنسو جادو
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
Beautiful Eyes Poetry
آنکھوں کا ہے فریب یا رعکس جمال ہے
آنکھوں کا ہے فریب یا رعکس جمال ہے
آتی ہے کیوں نظر اسکی صورت جگہ جگہ
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھ میں اجڑے گھرانے تو نہیں رکھ سکتی
آنکھ میں اجڑے گھرانے تو نہیں رکھ سکتی
میں یہاں خواب پُرانے تو نہیں رکھ سکتی
درد بیٹھا ہے ترا قلب میں اپنا بن کر
اس طرح اور خزانے تو نہیں رکھ سکتی
خود ہی اڑ جائیں گے اب یاد کے بادل بن کر
آنسوؤں کو میں سرہانے تو نہیں رکھ سکتی
وہ بصیرت کی ذرا آنکھ سے دیکھے اک دن
زندگی اُس کے بہانے تو نہیں رکھ سکتی
میں نے اس عشق کی تاریخ بدل کر رکھ دی
اور اب تیرے زمانے تو نہیں رکھ سکتی
جان لیوا ہے ترا ذکر مری جاں وشمہ
درد کے اور فسانے تو نہیں رکھ سکتی
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
یہ تیری چاند سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
کہ ان سے پیا ر سے برستا ہے
کوئی اقرار برستا ہے
محبت کا یہ درپن ہیں ، چاہت کا یہ جوبن ہیں
محبت کا اک سمندر ان سے بہتا ہے
کوئی اِن کے پیچھے تم سے بڑا ہی پیا ر کرتا ہے
نہیں یہ عام سی آ نکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
جنونِ عشق اور محبت کی آخری حد تک
میرے دل کی سر زمیں پر یہ آ نکھیں راج کرتی ہیں
مجھے بے تاب کرتی ہیں
تیری بے تاب سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
پیار تھا انہیں بھی کسی سے شاید
بہت اعتبا ر تھا شاید
دیوانے پن میں بھولی تھیں ۔۔۔یہ آنکھیں رو بھی سکتی ہیں
بہت ہی رو چکی یہ تو ۔۔۔اُسی اعتبار میں شاید
محبت ہو چلی مجھ کو ۔۔۔۔ان بے ربط آنکھوں سے
مجھے اِن کو منانا ہے تیری یہ روٹھی سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
مچل جاتی ہو ں دیکھ کر اِن کو
جیسے روٹھا ہوا بچہ ، محبت کے لئے تڑپے
سنو
مجھے گنوانا نہیں ان کو
یہ آدھی رات سی آنکھیں
مجھے بے چین کرتی ہیں
تیری بے چین سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی
میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھوں کی نمی درد کو ظاہر کر دیتی ہے
آنکھوں کی نمی درد کو ظاہر کر دیتی ہے
لبوں پے مسکان سجانے سے کچھ نہیں ہوتا
دل کی وادی تو ویران پڑ گئی ہیں لکی
اب گھر کو سجانے سے کچھ نہیں ہوتا
رات دیر تک تیری بات چلتی رہی دل سے
اب آنکھوں کے خواب مٹانے سے کچھ نہیں ہوتا
کس سوچ میں ڈال دیا ُاس شخص نے مجھے
کہ وفا نبھانے سے بھی کچھ نہیں ہوتا
ُاس کے بول ہیں - یا پھر کسی پتھر پر لکیر
کہ سجدوں میں اشک بہانے سے بھی کچھ نہیں ہوتا
کر رہا ہیں دکھوایا وہ نفرت کا ہم سے
جاناں ! اب عدواتوں سے کچھ نہیں ہوتا
مٹا دیا ُاس نے پل میں ہی میرا نام
مٹی اگر خاک ہو جائے تو کچھ نہیں ہوتا
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھیں اچھی لگتی ہیں
گہری یاد میں ڈوبی آنکھیں اچھی لگتی ہیں
انتظار میں تھکتی آنکھیں اچھی لگتی ہیں
کھلی رہتی ہوں جنہں دیکھنے کو ہر لمحہ
انہی کے روبرو جھکی آنکھیں اچھی لگتی ہیں
مخمور ہیں دیدار سے بوجھل ہیں انتظار سے
یہ سوئی سوئی جاگی آنکھیں اچھی لگتی ہیں
مضطرب اور مضمحل ہر وقت محو انتظار
دروازے پہ ٹکی آنکھیں اچھی لگتی ہیں
اپنی آس کی پیاس میں ہر آہٹ پر چونکتی
رکی رکی سی ٹھہری آنکھیں اچھی لگتی ہیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو
جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھیں آنکھیں قرار آنکھیں ہیں
آنکھیں آنکھیں قرار آنکھیں ہیں
دل جگر آر پار آنکھیں ہیں
حسن و رعنائی اور کیا کہنا
تیری صورت بھی یار آنکھیں ہیں
بارہا دل کو توڑ کر دیکھا
بارہا بار بار آنکھیں ہیں
بے قراری میں بھی قرار آئے
منتظر انتظار آنکھیں ہیں
ہر ادا کی طرح یہ بھاتی ہیں
ہائے تیری فنکار آنکھیں ہیں
غم کی شمعیں بجھ گئیں ساری
بن گئی روزگار آنکھیں ہیں
دل کی وادی میں دلکشی کے لیے
گل و خوشبو بہار آنکھیں ہیں
زندگی کا وجود ہیں آنکھیں
موت کا تختہ دار آنکھیں ہیں
اک غموں کا وسیع سمندر ہیں
خوشی کا اظہار آنکھیں ہیں
اشتیاق تو نے ڈوب کر بھی نہ جانا
تیرا اب بھی اعتبار آنکھیں ہیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھیں سوئی سوئی ہیں
آنکھیں سوئی سوئی ہیں
یہ آنکھیں روئی روئی ہیں
ایسی بھی کیا بات ہوئی
کہ آنکھیں روئی روئی ہیں
جاگتے سپنے دیکھنے والی
آنکھیں سوئی سوئی ہیں
نہ پوچھو کیا بات ہوئی
کیوں آنکھیں روئی روئی ہیں
نہ پوچھو یہ راز سکھی
کیوں آنکھیں سوئی سوئی ہیں
جاگتے سپنے ٹوٹ گئے تو
تھک ہار کے آنکھیں سوئی ہیں
دل کا درد نہ دیکھ سکیں
پھر آج یہ آنکھیں روئی ہیں
آنکھیں سوئی سوئی ہیں
یہ آنکھیں روئی روئی ہیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھیں سچی ہوتی ہیں
جھوٹی ہنسی کے لمحوں میں
آنسو آنسو روتی ہیں
آنکھیں سچی ہوتی ہیں
ہجر میں بھیگی پلکوں سے
یاد میں خواب پروتی ہیں
آنکھیں سچی ہوتی ہیں
منظر جب کھو جائیں تو
خاک نگر جا سوتی ہیں
آنکھیں سچی ہوتی ہیں
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦
آنکھیں، روح کی بے ساختہ شاعری کی کھڑکیاں،
آئینہ وقت کے جوہر کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کی نظروں میں زندگی کی کہانیاں کھلتی ہیں،
راز بیان کرنا، ان کہی، اور جرات مندانہ۔
♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)