Best Deep Sad Mohsin Naqvi Poetry In Urdu 2 Lines Text

Relationship Guides For4
0


Mohsin Naqvi poetry

Best Deep Mohsin Naqvi Poetry In Urdu

In this blog post you can read the best sad Mohsin Naqvi poetry in urdu. Read and share them with your friends and your loved-one. hope you enjoy it. If you like the post leave your favourite poetry of Mohsin Naqvi in comment sections. Also Read the best Rahat Indori Poetry Sad

Mohsin Naqvi poetry


 کون سی بات ہے تم میں ایسی

اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

Sad Mohsin Naqvi Poetry In Urdu

♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا


فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا

بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا


دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا

ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا


اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس

کچھہ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا


پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر

اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا


آرائش جراحت یاراں کی بزم میں

جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا


تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل

تھوڑی سی اس کے جسم کی چرا کے لا


گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے

میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا


محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر

کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا لا

Romantic Mohsin Naqvi Poetry Urdu Text

♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mohsin Naqvi poetry


صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو

کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں


بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں


پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا

روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں


بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن

کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں


اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں


ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں

پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں


یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Best Romantic Mohsin Naqvi Poetry 2 Lines

Mohsin Naqvi poetry


ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے


تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے


تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو

وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے


جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر

جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے


یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی

مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہتے

 

Best Mohsin Naqvi Poetry Text 

♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mohsin Naqvi poetry


تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے

یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر


اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر


کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے

خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر


اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے

وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر


ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر


وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر


اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے

تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر


اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Top Deep Mohsin Naqvi Poetry In Urdu 

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے

شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے


فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے

میرا ساتھی اکیلا رہ گیا ہے


یہ کہہ کر پھر پلٹ آئیں ہوائیں

شجر پر ایک پتا رہ گیا ہے


ہر اِک رُت میں تیرا غم ہے سلامت

یہ موسم ایک جیسا رہ گیا ہے


ہمارے بعد کیا گزری عزیزو

سناؤ شہر کیسا رہ گیا ہے؟


برس کچھ اور اے آوارہ بادل

کہ دِل کا شہر پیاسا رہ گیا ہے


خداوندا سنبھال اپنی امانت

بشر دنیا میں تنہا رہ گیا ہے


حوادث کس لیے ڈھونڈیں گے مجھ کو؟

میرے دامن میں اب کیا رہ گیا ہے؟


ستارے بانٹتا پھرتا ہوں "محسن"

مگر گھر میں اندھیرا رہ گیا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Best Deep Sad Mohsin Naqvi Poetry In Urdu 2 Lines Text

مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا


مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا

جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکھے گی


میرا ماتم اِسی چپ چاپ فضاء میں ہوگا

میرا نوحہ اِنہی گلیوں کی ہوا لکھے گی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن


خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا


وہ کون لوگ تھے ، ان کا پتہ تو کرنا تھا

مرے لہو میں نہا کر جنہیں نکھرنا تھا


یہ کیا کہ لوٹ بھی آئے سراب دیکھ کے لوگ

وہ تشنگی تھی کہ پاتال تک اترنا تھا


گلی کا شور ڈرائے گا دیر تک مجھ کو

میں سوچتا ہوں دریچوں کو وا نہ کرنا تھا


یہ تم نے انگلیاں کیسے فگار کر لی ہیں ؟

مجھے تو خیر لکیروں میں رنگ بھرنا تھا


وہ ہونٹ تھے کہ شفق میں نہائی کرنیں تھیں ؟

وہ آنکھ تھی کہ خنک پانیوں کا جھرنا تھا ؟


گلوں کی بات کبھی راز رہ نہ سکتی تھی

کہ نکہتوں کو تو ہر راہ سے گزرنا تھا


خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


دکھ ہی ایسا تھا کہ محسنؔ ہوا گم سم ورنہ

غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mohsin Naqvi Poetry

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے


بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ھے


یہ ختم وصال کا لمحہ ہے را ئگاں نہ سمجھ

کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے


کچھ اور دیر نہ جھاڑنا اداسیوں کے شجر

کسے خبر کون تیرے سائے میں بیٹھا ہے


یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو

وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے


میں کس طرح تجھے دیکھوں نظر جھجکتی ہے

یہ بدن ہے کہ آئینو ں کا دریا ہے


کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق تیرا

یہ زہر دل میں اتر کے ہی راس آتا ہے


میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں

کبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ہے


مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب

کہ میں نے شاخ سے گل کوبچھڑتے دیکھا ہے


میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں یہ لوگ

کہ پھول ٹوٹی ہو ئی قبر پر بھی کھلتا ہے


اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اس طرح محسن

کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد

وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میرے سِوا سرِ مقتل مقام کس کا ہے


میرے سِوا سرِ مقتل مقام کس کا ہے

کہو کہ اب لبِ قاتل پہ نام کس کا ہے


یہ تخت و تاج و قبا سب انہیں مبارک ہوں

مگر بہ نوکِ سِناں احترام کس کا ہے


تمہاری بات نہیں تم تو چارہ گر تھے مگر

یہ جشنِ فتح، پسِ قتلِ عام کس کا ہے


ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نشاں

ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے


فنا کے ہانپتے جھونکے ہوا سے پوچھتے ہیں

جبینِ وقت پہ نقشِ دوام کس کا ہے


تمہاری بات تو حرفِ غلط تھی مِٹ بھی گئی

اُتر گیا جو دلوں میں کلام کس کا ہے


وہ مطمئن تھے بہت قتل کر کے محسنؔ کو

مگر یہ ذکرِ وفا صبح و شام کس کا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو

شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Deep Romantic Mohsin Naqvi Poetry

یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤنگا


یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤنگا

اک دن میں روشنی کا نگر چھوڑ جاؤ نگا


مرنے سے پیشتر میری آواز مت چرا

میں اپنی جاۂیداد ادھر چھوڑ جاؤں گا


قاتل مرا نشان مٹانے پہ ہے بضد

میں بھی سناں کی نوک پہ سرَ چھوڑ جاؤنگا


تْو نے مجھے چراغ سمجھ کر بجھا دیا

لیکن تیرے لۓ میں سحر چھوڑ جاؤنگا


آۂندہ نسل مجھ کو پڑھے گی غزل غزل

میں حرف حرف اپنا ہنر چھوڑ جاؤنگا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا

یہ حادثہ بھی میری جان ، کبھی تو ہونا تھا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Sad Mohsin Naqvi Poetry

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی


یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی

اس دشت میں اک شہر تها وہ کیا ہوا آوارگی


کل شب مجهے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا

میں نے کہا تو کون ہے؟ اس نے کہا آوارگی


اک تو کہ صدیوں سے مرے ہمراہ بهی ہمراز بهی

اک میں کہ ترے نام سے نا آشنا آوارگی


اک اجنبی جھونکے نے جب پوچها مرے غم کا سبب

صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکها آوارگی


یہ درد کی تنہایاں یہ دشت کا ویراں سفر

ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی


لوگو بهلا اس شہر میں کیسے جیئں گے ہم جہاں

ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی


کل رات تنہا چاند کو دیکها تها میں خواب میں

محسن مجهے راس آئیگی شاید سدا آوارگی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص

چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں

Top Mohsin Naqvi Best Poetry

♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


عباس کربلا میں وہ جوہر دکھا گیا

بوڑھے بہادروں کو علی یاد آگیا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میرے ہاتھوں کی لکیروں میں یہ عیب ہے محسن

میں جس شخص کو چھو لوں وہ میرا نہیں رہتا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


تھک جاؤ گی


پاگل آنکھوں والی لڑکی

اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو

تھک جاؤ گی


کانچ سے نازک خواب تمہارے

ٹوٹ گئے تو

پچھتاؤ گی


سوچ کا سارا اجلا کندن

ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا

کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم

کھل جائے گا


تم کیا جانو

خواب سفر کی دھوپ کے تیشے

خواب ادھوری رات کا دوزخ

خواب خیالوں کا پچھتاوا

خوابوں کی منزل رسوائی

خوابوں کا حاصل تنہائی


تم کیا جانو

مہنگے خواب خریدنا ہوں تو

آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یا

رشتے بھولنا پڑتے ہیں

اندیشوں کی ریت نہ پھانکو


پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو

اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو


تھک جاؤ گی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Moshin Naqvi Best Poetry In Urdu Text

اب ایک پل کا تغافل بھی سہہ نہیں سکتے

ہم اہل دل ، کبھی عادی تھے انتظار کے بھی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


میں نے اکثر خواب میں دیکھا


میں نے اکثر خواب میں دیکھا

خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے


اک پتھریلی قبر بنی ہے

قبر کی اجلی پیشانی پر

دھندلے میلے شیشے کی تختی کے پیچھے

تیرا نام لکھا ہے


تیرا میرا نام کہ جس میں

شیشے پتھر جیسی کوئی بات نہیں ہے

تیری شہرت میں بھی

میری رسوائی کا ہات نہیں ہے

پھر بھی

سوچو


میں نے اکثر خواب میں دیکھا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کیوں تیرے درد کو دیں تہمت و یرانی ِدل

زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا


محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا

بُھلا چکے ہیں اُسے پھر سے یاد کیا کرنا


وہ بے وفا ہی سہی اُس پہ تہمتیں کیسی

ذرا سی بات پہ اتنا فساد کیا کرنا


کچھ اس لیے بھی میں پسپا ہوا ہوں مقتل سے

کہ بہرِ مالِ غنیمت جہاد کیا کرنا


نگاہ میں جو اُترتا ہے دل سے کیوں اُترے

دل و نگاہ میں پیدا تضاد کیا کرنا


میں اس لیے اُسے اب تک چھو نہ سکا "محسن"

وہ آہیٔنہ ہے اُسے سنگ زاد کیا کرنا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


انھیں جو ناز ہے خود پر نہیں بے وجہ محسن

کہ جس کو ہم نے چاہا ہو، وہ خود کو عام کیوں سمجھے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mohsin Naqvi Poetry Sad In Urdu 2 Lines

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں


یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں


جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے

جب دلوں میں داغ چمکتے تھے


جب پلکیں شہر کے رستوں میں

اشکوں کا نور لٹاتی تھیں


جب سانسیں اجلے چہروں کی

تن من میں پھول سجاتی تھیں


جب چاند کی رم جھم کرنوں سے

سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے


جب ایک تلاطم رہتا تھا

اپنے بے انت خیالوں میں


ہر عہد نبھانے کی قسمیں

خط خون سے لکھنے کی رسمیں


جب عام تھیں ہم دل والوں میں

اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر


کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے


یاقوت پگھلتے رہتے ہیں

اب اپنی گم سم آنکھوں میں


کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی


کچھ گرد آلود سے موسم ہیں

اب دھوپ اگلتی سوچوں میں


کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں

اب اپنے ویراں آنگن میں


جتنی صبحوں کی چاندی ہے

جتنی شاموں کا سونا ہے

اس کو خاکستر ہونا ہے


اب یہ باتیں رہنے دیجے

جس عمر میں قصے بنتے تھے

اس عمر کا غم سہنے دیجے


اب اپنی اجڑی آنکھوں میں

جتنی روشن سی راتیں ہیں

اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں


جس عمر کے خواب خیال ہوئے


وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی

وہ عمر بتائے سال ہوئے

اب اپنی دید کے رستے میں

کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا


کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں

کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں

کچھ یادوں کی برساتیں ہیں


یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


پہلے خوشبو کے مزاجوں کو سمجھ لو محسن

پھر گلستان میں کسی گل سے محبت کرنا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Mohsin Naqvi Poetry In Urdu 2 lines

فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے


فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے

میرا ساتھی اکیلا رہ گیا ہے


یہ کہہ کر پھر پلٹ آئیں ہوائیں

شجر پر ایک پتا رہ گیا ہے


ہر اِک رُت میں تیرا غم ہے سلامت

یہ موسم ایک جیسا رہ گیا ہے


ہمارے بعد کیا گزری عزیزو

سناؤ شہر کیسا رہ گیا ہے؟


برس کچھ اور اے آوارہ بادل

کہ دِل کا شہر پیاسا رہ گیا ہے


خداوندا سنبھال اپنی امانت

بشر دنیا میں تنہا رہ گیا ہے


حوادث کس لیے ڈھونڈیں گے مجھ کو؟

میرے دامن میں اب کیا رہ گیا ہے؟


ستارے بانٹتا پھرتا ہوں "محسن"

مگر گھر میں اندھیرا رہ گیا ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


کچھ حادثوں سے گر گئے محسن زمین پر

ہم رشک آسمان تھے ابھی کل کی بات ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی


یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی

اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی


کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا

میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی


لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں

ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی


یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر

ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی


اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب

صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی


اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا

اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی


کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں

محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


جس کی قسمت میں لکھا ہو رونا محسن

وہ مسکرا بھی دیں تو آنسو نکل آتے ہیں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


وہ جو مٹ گیا وہ یزید تھا

جو نہ مٹ سکا وہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اُسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی

کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاو اداس لوگو


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


خدشہ


یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق

یہ آئنے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار


یہ بے نیاز گھنے جنگلوں سے بال ترے

یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا عکس گالوں پر

یہ دھڑکنوں کی زباں بولتے ہوئے آبرو

کمند ڈال رہے ہیں مرے خیالوں پر

تری جبیں پہ اگر حادثوں کے نقش ابھریں

مزاج گردش دوراں بھی لڑکھڑا جائے

تو مسکرائے تو صبحیں تجھے سلام کریں

تو رو پڑے تو زمانے کی آنکھ بھر آئے


مگر میں شہر حوادث کے سنگ زادوں سے

یہ آئنے سا بدن کس طرح بچاؤں‌ گا

مجھے یہ ڈر ہے کسی روز تیرے قرب سمیت

میں خود بھی دکھ کے سمندر میں ڈوب جاؤں گا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


ذکرشبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی

میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں


اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں


وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے

میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں


تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا

مجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں


کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر

کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں


کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی

کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں


نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا

کہ میں تو خود اپنے گھر میں بھی دو گھڑی رہا ہوں


ملا تو بیتے دنوں کا سچ اس کی آنکھ میں تھا

وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں


بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن

گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں


وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔ

یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦


آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا

یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا


♦─━━━━━━♥⊱✿⊰♥━━━━━━─♦

Hope You Like the post

The End

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)