Allama Iqbal Poetry In Urdu,
Allama Iqbal poetry, known as "Allama Iqbal poetry in Urdu," is like a colorful picture made of deep thoughts, feelings, and love for his country, Pakistan. His poetry talks about big ideas like knowing yourself and working together for a better world.
He wants people to wake up and understand their worth. Through his words, he shows love for his country and encourages unity among Muslims. Allama Iqbal poetry is like a light guiding people to truth and fairness, inspiring everyone who reads it.
Best Allama Iqbal Poetry In Urdu For Students.
ایک نوجوان کے نام
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Best Famous Allama Iqbal Poetry In Urdu
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
اقبال کی عظمت
اقبال تیری عظمت کی داستاں کیا سناؤں
تیری زندگی پہ لکھوں تو الفاظ نہ پاؤں
کوئ نہ کرسکا کیا کام وہ تو نے
تیرے کام کی شان میں کیسے بتاؤں
کیا خوب شاعری کا انداز ہے تیرا
اک اک لفظ میں جادو سا چھپا پاؤں
بکھری امت کو ملا دیا تو نے کیسے
تیرے احسان مسلماں کو میں کیسے بتاؤں
تیرے اشعار میں نوجواں کے لیے نصیحت ھے چھپی
کاش اس قوم کو ان باتوں پر چلتا ھوا پاؤں
لوگوں کو جگانے کا جادو تھا پاس تیرے اقبال
ایسا ھی ھنر اے کاش میں بھی پاؤں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
یومِ اقبال
میرے “اقبال“ میں شرمندہ ہوں تیری روح سے
تیرے خوابوں کی جو تعبیر تھی پھر خواب کیا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں
تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بيں نہیں
آہ یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدہ حکمت کے الجھيڑوں سے کیا
دیدہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ تیرا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمیٔ شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعيت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانۂ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Allama Iqbal Poetry In Urdu For Students
شکوہ
راہ اقبال پر چلنے کی تمنا کر کے
دل بھی رنجیدہ ہےالٰلّه سے شکوہ کر کے
اصفیا سمجھیں گے ہر بات کہ صوفی میں ہوں
کیا زمانے کو ملے گا مجھے رسوا کر کے
انجم لکھنویؔ
شِکَوہٗ
تیری رحمت کو نہ کیوں دیدہ پر نم ڈھونڈھے
ہے جسے تیری ضرورت وہی پیہم ڈھونڈھے
پھول کو گلشن ہستی میں بھی شبنم ڈھونڈ ھے
! خلد آدم کو کبھی خلد کو آدم ڈھونڈ ھے
شکوۂ عبد بھی سن کر تیرا پردہ نہ اُٹھا
تیری مرضی تو مجھے جلوہ دکھا یا نہ دکھا
طالب مدح تھا اب طالب شکوہ میں ہوں
جو ہے دریا کا طلبگار وہ قطرہ میں ہوں
تو ہے معبود مرا اور ترا بندہ میں ہوں
مالک حسن ہے تو عشق کا جلوہ میں ہوں
اپنے عاشق کو محبت کی سزا کس نے دی
بر سر دار انا الحق کی صدا کس نے دی
مشت بھر خاک سے اور ہستی آدم کا وجود
میں نے مانا یہ تری کارا گری ہے معبود
اور فرشتے پس آدم بھی ہوئے سر بہ سجود
ہیں اُسی نسل سے کیونکر یہ مسلمانو ہنود
کچھ نصیری ہیں نصارا بھی ہیں عیسائی بھی
جز مرے کرتے ہیں کیا تیری پذیرائی بھی
تیرے کلمے کا بھی اعلان کیا ہے ہم نے
کتنی قوموں کو مسلمان کیا ہے ہم نے
قریہ قریہ تجھے ذیشان کیا ہے ہم نے
مرحلہ سخت تھا آسان کیا ہے ہم نے
ہم اگر حق پر ہیں تو عرش سے آواز تو دے
یا بلالے ہمیں اور قوت پرواز تو دے
نام مسجد ہے ترا گھر جو بنا رکھا ہے
فرش عصمت کو بھی سجدوں سے سجا رکھا ہے
یاد میں نے بھی تجھے وقت دعا رکھا ہے
پر دُعاؤں میں اثر تو نے بھی کیا رکھا ہے
جینے والے کو دعا دیتا ہوں مر جاتا ہے
میرے ایمان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے
میں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتا ہوں
سجده شکر بصد شوق ادا کرتا ہوں
میں بہر حال تجھے راضی رضا کرتا ہوں
بخش دے میری خطائیں یہ دُعا کرتا ہوں
تو اگر ہے تو عمل کی مرے تائید بھی کر
جاری میرے لئے تو چشمہ تو حید بھی کر
لامکاں تو ہے حرم اصل تیرا گھر بھی نہیں
وہ کلیسا بھی نہیں مسجد و مندر بھی نہیں
تیرے رہنے کی جگہ یہ دل مضطر بھی نہیں
نور جب تو ہے ترا پھر کوئی ہمسر بھی نہیں
چاند سمجھوں تجھے سورج یا ستارہ سمجھوں
کوئی پہچان بتا کچھ تو اشارہ سمجھوں!
حق تجھے مان لیا خود ر ہے عابد بن کر
بندگی کی ہے تری واقعی زاہد بن کر
دعوتیں بانٹیں ترے دین کا قاصد بن کر
جو مخالف ہوا لڑ بیٹھے مجاہد بن کر
ہر جگہ پرچم توحید کو گاڑا کس نے
باب خیبر کو دو انگلی سے اُکھاڑا کس نے
نام زندہ ر ہے تیرا کہ اُٹھائی افتاد
جب سنائی تو سنائی تجھے اپنی روداد
تیغ باطل سے نہتھا لڑا بن کر فولاد
مڑ کے دیکھا نہ کبھی گھر کی طرف وقت جہاد
فوج اعدا نہ رہی جنگ کے منظر بدلے
میری ٹھوکر سے ہی پتھر کے مقدر بد لے
میں نے کردار زمانے کا پلٹتے دیکھا
تیرا پھیلا ہوا اسلام سمٹتے دیکھا
تو نے کب جنگ میں پیچھے مجھے ہٹتے دیکھا
کٹ گیا میرا گلا تو نے بھی کٹتے دیکھا
آسماں میری دعاؤں سے کہیں دُور نہ تھا
رن میں مجبور تھا میں تو کوئی مجبور نہ تھا
تیرا ادنی سا کرشمہ ہیں سبھی شجر و حجر
تو نے پیدا کئے دریاؤں میں بھی لعل و گہر
اتنی فرصت بھی نہ دی دیکھتا سارے منظر
مجھکو دوڑاتا رہا ہاتھ میں پرچم دیگر
تیرے اسلام کی تبلیغ مرے دم سے ہوئی
تیری دنیا کی شروعات بھی آدم سے ہوئی
لات و عزہ و ہبل کا تو بڑا لشکر تھا
غاصبانہ جہاں قبضہ تھا وہ تیرا گھر تھا
جب خدائی تھی تری تب بھی خدا پتھر تھا
گویا تخلیق بتا ں کیلئے اک آزر تھا
ہم نے طوفان نحوست کی روش موڑی ہے
یعنی پتھر کے خداؤں کی کمر توڑی ہے
تیرا محبوب نہ ہوتا تو ترا کیا ہوتا
بندگی کا تری ہر موڑ پہ سودا ہوتا
تجھکو سجدہ نہیں پھر غیر کا سجدہ ہوتا
کیسا لگتا تجھے میں کہتا جو اچھا ہوتا
سن کے یہ بات میری تجھکو جلال آجاتا
تجھکو محبوب کا اُس وقت خیال آجاتا
فاقہ کرتے ہیں مسلمان شکم سیر ہنود
شکر کرتے ہیں ادا، پھر بھی ترا سر بہ سجود
کیوں نہیں دیکھتا جب ہر جگہ تو ہے موجود
تجھکو پرواہ نہیں ہے میری شاید معبود
تو ہے رزاق تو ہی سبکو غذا دیتا ہے
پھر مجھے کس لئے تو بھوکا سلا دیتا ہے
ذہن قاصر ہے کہ میں کیسے گنہگار ہوا
تیری رحمت کا بحر کیف طلبگار ہوا
پھر بھی تیرا نہ کسی موڑ پہ دیدار ہوا
میں تولد ہوا دنیا میں یہ بیکار ہوا
تو ہے معبود تو بندے سے جدائی کیسی
جو میرے کام نہ آئے وہ خدائی کیسی
کیا ستم ہے ترا پہلے مجھے جنت دیدی
میں نے مانگی نہ تھی خود اپنی خلافت دیدی
اپنی من مانی جو چاہی وہ وصیت دیدی
اور پھر خلد بدر ہو یہ اجازت دیدی
مجھکو دنیا میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیا
تو نے اک مٹی کے انسان کا دل توڑ دیا
جب مٹانا ہی تھا کیوں مجھکو بنایا تو نے
کیوں فرشتوں سے مرا سجدہ کرایا تو نے
کیوں بلندی پہ بیٹھا کر یوں گرایا تو نے
کیسا احسان ترا جو کہ جتایا تو نے
اے خدا تو ہی بتا کیا یہ تری مرضی ہے
یہ جو مرضی ہے تری اس میں بھی خود غرضی ہے
تیری دھرتی ہے مگر صورت دہقاں ہم ہیں
ایک اک دانہ گندم کے نگہباں ہم ہیں
زینت غنچۂ گل بھی ہیں گلستاں ہم ہیں
تیری دنیا کی سجاوٹ کے بھی ساماں ہم ہیں
امتحاں پھر بھی ہمیں سے ترا منشا کیا ہے
تیری رحمت نے گہنگار کو سمجھا کیا ہے
ہم سے پہلے تیرے عالم کے عجب عالم تھے
مشت بھر خاک نہ تھی اور نہ کوئی آدم تھے
جب ہوئی کا را گری تیری وہاں پر ہم تھے
کیا عبادت کے لئے تیری ملائک کم تھے
ہم کو بے وجہ بنایا کوئی احسان نہیں
ہم سے پہلے تو تری کوئی بھی پہچان نہیں
میرے اعمال بھلے اور بُرے تونے کئے
کام زیبا جو ہیں تجھکو وہ ترے تو نے کئے
زخم ماضی کے تھے دل میں جو ہرے تو نے کئے
در احساس مرے کھوٹے کھرے تو نے کئے
تیری مرضی میں جو آئے وہی تو کرتا ہے
پھول سے رنگ جدا اور کبھی بو کرتا ہے
پتے صحرا پہ اگر ایڑیاں رگڑی ہم نے
پیاس پیاسوں کی بجھائی ہے اُسی زم زم نے
بالیقیں حسنِ عمل دیکھ لیا عالم نے
لاج آدم کی بچا رکھی ہے اک آدم نے
تو اگر چاہتا کوثر بھی پلا سکتا تھا
تشنہ لب کو لب کوثر بھی بلا سکتا تھا
مسجد اقصیٰ پر قابض ہیں عدوئے اسلام
جنگ ہم کرتے ہیں تو کرتا ہے ہم کو ناکام
یعنی مقصد ہے ترا ہم رہیں ہو کے بدنام
اب نہیں چلتا کہیں نعرہ تکبیر سے کام
یہ بتا کب تری رحمت بھلا ساتھ آے گی
مسجد اقصیٰ فلسطین کے ہاتھ آے گی
یہ صداقت ہے ترے نام پہ ایماں رکّھا
طاق دل پر ترے اخلاص کا قرآں رکّھا
تجھ کو ممدوح کہا دل کو ثنا خواں رکّھا
بزم عصمت میں ترا ذکر چراغاں رکّھا
اس مشقت کے عوض تو نے مجھے خوار کیا
یہ خطا مجھ سے ہوئی میں نے تجھے پیار کیا
جرم کیا ہے میرا محشر جو بپا ہونا ہے
اتنا معلوم ہے بندے کو سزا ہونا ہے
تجھ سے سمجھوتا بھی کیا تجھ سے جدا ہونا ہے
تو خفا ہو جا اگر تجھکو خفا ہونا ہے
جن و انساں ملے دوزخ میں جلانے کیلئے
باقی ہر شئے ہے کیا جنت میں سجانے کیلئے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Allama Iqbal Poetry
قمر کا خوف کہ ہے خطرہء سحر تجھ کو
قمر کا خوف کہ ہے خطرہء سحر تجھ کو
مآل حسن کي کيا مل گئي خبر تجھ کو؟
متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو
ہے کيا ہراس فنا صورت شرر تجھ کو؟
زميں سے دور ديا آسماں نے گھر تجھ کو
مثال ماہ اڑھائي قبائے زر تجھ کو
غضب ہے پھر تري ننھي سي جان ڈرتي ہے!
تمام رات تري کانپتے گزرتي ہے
چمکنے والے مسافر! عجب يہ بستي ہے
جو اوج ايک کا ہے ، دوسرے کي پستي ہے
اجل ہے لاکھوں ستاروں کي اک ولادت مہر
فنا کي نيند مے زندگي کي مستي ہے
وداع غنچہ ميں ہے راز آفرينش گل
عدم ، عدم ہے کہ آئينہ دار ہستي ہے!
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے ميں
ثبات ايک تغير کو ہے زمانے ميں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا و جمادات و نباتات
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Allama Iqbal Poetry In Urdu 2 lines
لڑکياں پڑھ رہی ہیں انگریزی
لڑکياں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روش مغربی ہے مد نظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی
اثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!
“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”
تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں
جُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاکبیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Famous Allama Iqbal Poetry for students
کفن میں لپٹی لاش کو دیکھ کر رونا مت
کفن میں لپٹی لاش کو دیکھ کر رونا مت
وہ آخری ملاقات ہوگی ہستے ہوئے ملنا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی
اثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!
“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”
تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں
جُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاکبیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
صِدّیقؓ
اک دن رسُولِ پاکؐ نے اصحابؓ سے کہا
دیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدار
ارشاد سُن کے فرطِ طرب سے عمَرؓ اُٹھے
اُس روز اُن کے پاس تھے درہم کئی ہزار
دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صِدّیقؓ سے ضرور
بڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوار
لائے غَرضکہ مال رُسولِ امیںؐ کے پاس
ایثار کی ہے دست نِگر ابتدائے کار
پُوچھا حضور سروَرِ عالمؐ نے، اے عمَرؓ!
اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار
رَکھّا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تُو نے کیا؟
مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار
کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق
باقی جو ہے وہ ملّتِ بیضا پہ ہے نثار
اتنے میں وہ رفیقِ نبوّت بھی آگیا
جس سے بِنائے عشق و محبّت ہے اُستوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وفا سرِشت
ہر چیز، جس سے چشمِ جہاں میں ہو اعتبار
مِلکِ یمین و درہم و دینار و رخت و جِنس
اسپِ قمر سم و شُتر و قاطر و حمار
بولے حضورؐ، چاہیے فکرِ عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبّت کا راز دار
اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر!
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار!
پروانے کو چراغ ہے، بُلبل کو پھُول بس
صِدّیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں
تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بيں نہیں
آہ یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدہ حکمت کے الجھيڑوں سے کیا
دیدہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ تیرا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمیٔ شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعيت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانۂ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا
کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہمسفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا
جہاں بانی سے ہے دُشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خُوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہوَر پیدا
نوا پیرا ہو اے بُلبل کہ ہو تیرے ترنّم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانی
بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانی
گمان آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ
ہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانی
ثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
بشر کی بلندی میں بھی کوئی راز ہوتا ہے
بشر کی بلندی میں بھی کوئی راز ہوتا ہے
جو سر دے دے سر میدان وہی سرفراز ہوتا ہے
جہاں پے ختم ہوتی ہے حدود انسانی
وہی سے پنجتن ع کی شان کا آغاز ہوتا ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
سب بھول بیٹھے تم
علوم یاد کر لیئے آج دنیا کے سارے تم نے
دیواروں پر اپنی سندیں سجائے بیٹھے ہو
جو اُتری تھی کتاب ہاشمی پر حجاز میں
جس میں تھی فلاح یقینی، اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
کیا اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہے بہت تم کو
یا اب بھی اُس رب سے کچھ اُمید لگائے بیٹھے ہو
ہر پیشے میں ہے مصروف آج کا مسلمان
ملتا ہے مگر رزق جس سے، وہ نماز ہی بُھلائے بیٹھے ہو
دی جاتی تھی کبھی مثال تمہاری امانت کی
آج ہر گلی بے ایمانی کی دکان لگائے بیٹھے ہو
کہتے تو صرف سچ، ورنہ چُپ رہتے تھے تم کبھی
آج جھوٹ بولنے کو تم اپنی پہچان بنائے بیٹھے ہو
زمانے میں تمہارا آج کیا مقام رہ گیا ہےبولو
تھی جو قابلِ رشک تم میں، وہ صفات بُھلائے بیٹھے ہو
جس کام کیلئے چُنا تھا اس امت میں نادر تم کو
آج تم اپنے اُسی مقصد کو بُھلائے بیٹھے ہو
،یوں دل جلائے بیٹھے ہو
حسرت لگائے بیٹھے ہو
،جس ذات نے دیا سب کچھ
اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
سب بھول بیٹھے تم
علوم یاد کر لیئے آج دنیا کے سارے تم نے
دیواروں پر اپنی سندیں سجائے بیٹھے ہو
جو اُتری تھی کتاب ہاشمی پر حجاز میں
جس میں تھی فلاح یقینی، اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
کیا اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہے بہت تم کو
یا اب بھی اُس رب سے کچھ اُمید لگائے بیٹھے ہو
ہر پیشے میں ہے مصروف آج کا مسلمان
ملتا ہے مگر رزق جس سے، وہ نماز ہی بُھلائے بیٹھے ہو
دی جاتی تھی کبھی مثال تمہاری امانت کی
آج ہر گلی بے ایمانی کی دکان لگائے بیٹھے ہو
کہتے تو صرف سچ، ورنہ چُپ رہتے تھے تم کبھی
آج جھوٹ بولنے کو تم اپنی پہچان بنائے بیٹھے ہو
زمانے میں تمہارا آج کیا مقام رہ گیا ہےبولو
تھی جو قابلِ رشک تم میں، وہ صفات بُھلائے بیٹھے ہو
جس کام کیلئے چُنا تھا اس امت میں نادر تم کو
آج تم اپنے اُسی مقصد کو بُھلائے بیٹھے ہو
،یوں دل جلائے بیٹھے ہو
حسرت لگائے بیٹھے ہو
،جس ذات نے دیا سب کچھ
اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
سب بھول بیٹھے تم
علوم یاد کر لیئے آج دنیا کے سارے تم نے
دیواروں پر اپنی سندیں سجائے بیٹھے ہو
جو اُتری تھی کتاب ہاشمی پر حجاز میں
جس میں تھی فلاح یقینی، اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
کیا اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہے بہت تم کو
یا اب بھی اُس رب سے کچھ اُمید لگائے بیٹھے ہو
ہر پیشے میں ہے مصروف آج کا مسلمان
ملتا ہے مگر رزق جس سے، وہ نماز ہی بُھلائے بیٹھے ہو
دی جاتی تھی کبھی مثال تمہاری امانت کی
آج ہر گلی بے ایمانی کی دکان لگائے بیٹھے ہو
کہتے تو صرف سچ، ورنہ چُپ رہتے تھے تم کبھی
آج جھوٹ بولنے کو تم اپنی پہچان بنائے بیٹھے ہو
زمانے میں تمہارا آج کیا مقام رہ گیا ہےبولو
تھی جو قابلِ رشک تم میں، وہ صفات بُھلائے بیٹھے ہو
جس کام کیلئے چُنا تھا اس امت میں نادر تم کو
آج تم اپنے اُسی مقصد کو بُھلائے بیٹھے ہو
،یوں دل جلائے بیٹھے ہو
حسرت لگائے بیٹھے ہو
،جس ذات نے دیا سب کچھ
اُسے ہی بُھلائے بیٹھے ہو
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
Allama Iqbal Poetry In Urdu
آج کسی کو بھی جلدی نہیں گھر جانے کی
آج کسی کو بھی جلدی نہیں گھر جانے کی
قصہ تو نیا ہے، مگر بات ہے وہی پرانی سی
کہتے ہیں یہ لوگ کہ ڈوب گیا سب کچھ انکا
اہل اقتدار تھے ظالم، یہ اُنکی ذمےداری تھی
نہ جانے مجھ کو مگر کیوں لگتا ہے ایسا
روٹھا کوئی مہرباں ہم سے، یہ وجہِ آسمانی تھی
کسی دانشور نے کہا کہ بند نہ تھے
اور کسی نے کہا موجوں میں فراوانی تھی
عادت پڑ چکی ہیں ظلم کی ہم کو اب تو
افسوس تو یہ ہے کہ سہنے کی بھی اور ڈھانے کی
بہتے گھر، روتے بچے، مائیں اور باپ
کوئی ایسے نہ تھا کم جس کی پریشانی تھی
دکھ سب سنا رہے تھے اور حال بھی اپنا
افسوس ہوا بس اُن کو، جن کو فکرِ انسانی تھی
،اُمیدوں اُن سے کیۓ بیٹھے ہو کیا تم اب تک
عادت جن کی ہے صرف جھنڈے لہرانے کی؟
باتیں بہت سنی اور تجویزیں بھی سنی سب کی
نہ دیکھی آنکھ مگر جس میں پشیمانی تھی
ہے یہ تقاضہ وقت کے ہم ایک ہو جائیں
ضرورت ہے قوم سے ملّت بن جانے کی
جُھکا سر رب کہ آگے اور کر توبہ نادر
یہ گھڑی ہے اپنے رب کی طرف لوٹ جانے کی
آج کسی کو بھی جلدی نہیں گھر جانے کی
قصہ تو نیا ہے مگر بات ہے وہی پرانی سی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
عشق قاتل سےمقتول سےہمدردی بھی
عشق قاتل سےمقتول سےہمدردی بھی
یہ بتاکس سےمحبت کی جزا مانگےگا؟
سجدہ خالق کوبھی،ابلیس سےیارانہ بھی
حشرمیں کس سےعقیدت کاصلہ مانگےگا؟
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
بندہ پروری ! اقبال
بندہ پروری کا پھر بھی کچھ دور تھا آپ تک! اقبال
اب تو صدائے عارف! بندہ کی تلاش میں گُونج رہی ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
